معرکہ حق ،سردار تنویر الیاس خان کا 21 ستمبر کو راولاکوٹ میں تاریخی جلسہ کرنے کا اعلان

اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) سابق وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس خان اور سابق صدر و وزیراعظم سردار یعقوب خان کی زیر صدارت پیپلز سیکرٹریٹ اسلام آباد میں منعقدہوا ۔

اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی پونچھ ڈویژن کے ٹکٹ ہولڈرز، سرکردہ رہنماؤں اور بلدیاتی نمائندگان کا ایک نہایت اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں 21 ستمبر کو راولاکوٹ میں ہونے والے ’’معرکہ حق‘‘ کے تاریخی جلسہ عام کی تیاریوں کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔

اجلاس کے دوران مقررین نے جلسے کی اہمیت، انتظامات اور اس کے وسیع تر سیاسی و قومی اثرات پر روشنی ڈالی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ اجتماع آزادکشمیر کی سیاسی تاریخ کا سنگ میل ثابت ہوگا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سردار تنویر الیاس خان اور سردار یعقوب خان نے کہا کہ راولاکوٹ میں ہونے والا یہ جلسہ عام محض ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ کشمیری عوام اور پاکستان کی مسلح افواج کے درمیان اٹوٹ رشتے کا عملی اظہار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج سے یکجہتی کیلئے ’’معرکہ حق‘‘ کا یہ جلسہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے تاریخی دفاعی معاہدے اور حالیہ آپریشن ’’بنیان المرصوص‘‘ کی شاندار کامیابی کے تناظر میں منعقد کیا جا رہا ہے۔۔

تاکہ امت مسلمہ کے اتحاد، پاکستان کی خودمختاری اور اسلامی افواج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ آپریشن ’’بنیان المرصوص‘‘ میں پاکستان کی مسلح افواج نے جس جرات و بہادری کا مظاہرہ کیا، وہ پوری ملت اسلامیہ کے لیے باعثِ فخر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ آر پار کے کشمیری اپنی افواج پر فخر کرتے ہیں اور ہر محاذ پر ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ سردار یعقوب خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کا سب سے بڑا وکیل رہا ہے اور عالمی فورمز پر کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کیلئے آواز بلند کرتا رہا ۔

سابق وزرائے اعظم کا کہنا تھاکہ کشمیری عوام کا پاکستان سے رشتہ محض جذباتی نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور ایمانی وابستگی ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت توڑ نہیں سکتی اور ہم 21 ستمبر کو شہداء اور غازیوں کی عظیم سرزمین پر تمام قائدین کو خوش آمدید کہیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام اپنے تمام سیاسی و علاقائی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر کشمیری عوام کے ساتھ یک زبان اور یکجہتی کرتے ہیں۔

یہی یکجہتی تحریکِ آزادی کشمیر کو تقویت دیتی ہے اور کشمیری عوام کے حوصلوں کو بلند رکھتی ہے۔اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ 21 ستمبر کو راولاکوٹ میں ہونے والا جلسہ ہر لحاظ سے تاریخی اور یادگار بنایا جائے گا تاکہ دنیا کو ایک واضح پیغام دیا جا سکے کہ کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت کیلئے متحد اور پرعزم ہیں۔۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور افواج پاکستان ہماری ریڈ لائن، کسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے ، انجمن تاجران ارجہ

Scroll to Top