اسلام آباد ( کشمیر ڈیجیٹل ) وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا کہ کل کے اعلامیے میں لہرائے گئے سائفر میں انڈین عزائم کے حوالے سے بات کی گئی اس میں جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کا نام کسی نے نہیں لیا ، اگر چور کی داڑھی میں تنکا یا شہتیر نہیں ہے تو منسٹری آف ایکسٹرنل افیئرز آف انڈیا کے behalf پر آپ کو یہ گفتگو کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟
ڈارک ویب کے سائفر سے حکومت آزاد کشمیر کا، آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کا کیا تعلق ہے؟ایک چیز میڈیا پر رپورٹ ہو رہی ہے،
انڈیا ڈی سٹیبلائزیشن کرنا چاہ رہا ہے ، اس سے چار دن قبل ایک تھریٹ الرٹ جاری ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر کی حساس تنصیبات پر hostile انٹیلیجنس ایجنسز اپنی پراکسیز کے ذریعے اٹیک کروانا چاہ رہی ہیں۔۔
گورنمنٹ آف آزاد جموں وکشمیر اس پر الرٹ جاری کرتی ہے یہ اس کو اٹھا کر اپنے سوشل میڈیا پیج پہ لگا دیتے ہیں، میں یہ پوچھتا ہوں کہ بھائی اس تھریٹ الرٹ کا (دہشت گردی کا) آپ کی اس عوامی حقوق کی تحریک سے کیا تعلق ہے؟
جب ہم اس پر شدت سے اپنا بیانیہ دیتے ہیں یہ اپنی پوسٹیں ڈیلیٹ کر دیتے ہیں، میری خواہش اور کوشش امن اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے ، کوشش ہے کسی قسم کے ایڈونچر جیسے اقدام کو یکسر مسترد کریں گے ۔۔
ایک مطالبہ انتہائی واحیات اور لغو ہے کہ مہاجرین کی سیٹیں ختم کر کے قضیہ کشمیر کو ہی دفن کر دیا جائے، اگر مسلح افواج پاکستان، پاکستان کی 24 کروڑ عوام اور مملکت خداداد پاکستان،اس کے قومی پرچم کی طاقت ہمارے آزاد کشمیر کے پرچم کے پیچھے کھڑی نہ ہو، تو سوچیں ہمارا کیا حال ہو ؟
ہم سب کو ہوش مندی کی ضرورت ہے، اختلاف رائے کو طے کرنے کا معروف اور مہذب دنیا میں سب سے مہذب ترین طریقہ ڈائیلاگ کا ہے، میں کوئی مراعات نہیں لیتا ، سب سے کم تنخواہ میرے وزراء کی ہے،
ہماری طرف سے کابینہ مذاکراتی کمیٹی موجود ہے، بات کرنا چاہیں ضرور کریں،اگر mediation کی خواہش رکھتے ہیں تو وہ بات بھی کر لیں۔
اگر آئین و قانون اسکی اجازت دیتا ہوگا تو ہم حاضر ہیں، حکومتیں تو مذاکرات سے انکار نہیں کرتیں لیکن جب آپ رٹ آف دی سٹیٹ کو تشدد اور دہشت آمیز سرگرمیوں کے ذریعے یرغمال بنا کر اپنے غیر آئینی مطالبات کی پذیرائی چاہیں گے تو پھر ریاست کے پاس کوئی آپشن نہیں بچتا۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوار الحق نے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے کہا کہ ایک طرف تو ایکشن کمیٹی کی قیادت یہ کہتی ہے کہ تمبر کے ڈنڈے ہم نے اس لئے رکھے ہیں رات کو سفر کرتے ہوئے گیدڑ، بھیڑیے سے حفاظت ہولیکن آزاد کشمیر میں بھیڑیئے آج تک میں نے دیکھے تو نہیں انکے راستے میں کیا کسی عام شہری کے راستے میں بھی نہیں آئے۔۔
یہ فقط ان کا سوشل میڈیا نیریٹو ہے اور جس طرح سے وہ یوتھ کے ذہن کو پراگندہ کر رہے ہیں اور جو گزشتہ احتجاج کی فوٹیجز چلا رہے ہیں جن میں پولیس اہلکاروں کو بے رحمی سے پیٹنا دکھا رہے ہیں جس وجہ سے ہمارا ایک افسر بھی شہید ہو گیا تھا۔
اگر یہ نیریٹو ہے اور اس نیریٹو کی تشریح ان کی لیڈرشپ اتنی تضحیک آمیز انداز میں کر رہی ہے تو پھر یہ ذمہ داری 100 فیصد ان پر ہے ، یہ مس ایڈونچر سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ 14یا 16 ستمبر کی درمیانی رات کو یہ ایکشن کمیٹی بنی، اس سے پہلے سینٹ آف پاکستان میں میری آڈیو، ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے۔۔
کشمیر کے عوام کا پہلا مقدمہ “وزیراعظم آزاد کشمیر” نے سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے لڑا، پاکستان کی قیادت، مملکت خداداد پاکستان کے عوام، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ، سب نے یہ فیصلہ کیا، کہ جو چیز دنیا میں کہیں بھی میسر نہیں ہے وہ آزادکشمیرکے لوگوں کو فراہم کر دی جائے۔۔
ریاست اورحکومت نے تو اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے، لوگوں کے جان و مال، املاک، اور ان کی موومنٹ کو تحفظ دینا ہے، آئین آزاد کشمیر ہمیں جو بیسک ہیومن رائٹس دیتا ہے ان میں پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، لیکن آپ جتھوں کے ذریعے، ڈنڈوں سے مسلح ہو کے یا آتشی اسلحہ سے مسلح ہو کے راستے بند نہیں کر سکتے۔۔
گن پوائنٹ پر مطالبات پورے نہیں کیے جائیں گے ، جس میں سے ایک مطالبہ انتہائی واحیات اور لغو ہے کہ مہاجرین کی سیٹیں ختم کر کے قضیہ کشمیر کو ہی دفن کر دیا جائے۔۔
وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ کبھی آپ نےدنیا میں کہیں سنا کہ گن پوائنٹ پر آپ لیجسلیچر کو یرغمال بنا کر اپنی مرضی کی قانون سازی کروائیں؟ یہ تو ایک مافیا طرز سٹائل ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ کوئی ذی ہوش شخص یہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔۔۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ہندوستان نے 35-اے اور 370 بھی ختم کر دیا، انہوں نے مقبوضہ کشمیر کو پروونشل سٹیٹس بھی نہیں دیا بلکہ یونین ٹیریٹری بنا دی۔۔۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ اس کے باوجود ان کے ذہنوں میں بھی یہ خوف ہے، ان کے اسٹیبلشمنٹ، ان کی سیاسی قیادت، ان کی دہشت گرد افواج کے ذہنوں میں یہ بات ہے کہ کہیں بین الاقوامی دباؤ بڑھ گیا اورحق خود ارادیت کے لئے plebiscite کروانا پڑ گیا تو ڈیموگرافک چینجز کیلئے انہوں نے 60 لاکھ بیرون مقبوضہ جموں کشمیر سے ہندو لا کر آباد کئے مقصد مسلم اکثریت کو کم کرنا ہے اور ان کی کٹھ پتلی اسمبلی میں آزادکشمیر کی ٹوکن ریپریزنٹیشن کو بڑھا دیا ہے،اس کے مقابلے میں یہ کیا مطالبہ ہے؟
مخصوص مہاجرین کی نشستیں (چھ جموں کی اور چھ ویلی کی) ختم کر دی جائیں، جن کے آباؤ اجداد نے اپنے خون سے تحریک ازادی کی ساری تحریر لکھی ہے، جن کے پاس جینوئن سٹیٹ سبجیکٹس ہیں، وہ سٹیٹ سبجیکٹ ہولڈرز ہیں۔۔
وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ اگر آپ اس بیانیہ پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کرتے ہیں (ہمارے مہاجرین جموں کشمیر کے دس، پندرہ لاکھ لوگ ہیں) ، اگر یہ نیریٹو آگیا تو پھر پہلا نیریٹو تو اس سے پہلے یہ آئے گا کہ جو بیرون ملک آپ کا تیرہ لاکھ کا کشمیری ڈائسپورہ ہے جس کیلئے ہم نے ایک سپیشل سیٹ رکھی ہوئی ہے اسمبلی کے اندر، dual نیشنل کی سیٹ ختم کرنا پڑے گی اور اس کا مطلب اگر آپ اوریجنل کشمیری ہیں ۔۔
ایک طرف تو 60 لاکھ ہندوستان سے آباد کر رہے ہیں تاکہ آبادی کا تناسب ان کے حق میں چلا جائے اور دوسری جانب ہمارا اصل اثاثہ جو تین نسلوں کی قربانی کے ساتھ یہاں بیٹھا ہوا ہے، ہم اس کو بھی ختم کر دیں ، ہم چاہتے کیا ہیں کہ قضیہ کشمیر دفن کر دیا جائے اور یہ ایک علاقائی تنازعہ بن جائے؟
ایک ہیں “را” کے ایجنٹس ، جس طرح کل بھوشن یادیو جیسے لوگ اور ایک ہے “را کا ایجنڈا” کہ وہ اس ملک میں ڈیسٹیبلائزیشن کس طرح کرناچاہتی ہے۔۔ مثال کے طور پر بی ایل اے کے جتنے لوگ پکڑے جا رہے ہیں یہ سارے “را” سے منسلک ہیں۔۔
وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ اگر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کر رہے ہیں تو وہ براہ راست دشمن ملک کے عزائم کی تکمیل کر رہے ہیں۔۔
بنیادی طور پر کشمیر کے حوالے سے بھارتی ایجنڈا ہے، تو پھر یہ فیصلہ آزادکشمیر کی عوام کو کرنا ہے کہ یہ بنیادی طور پر حقوق کی لڑائی ہے یا مسئلہ کشمیر کے خاتمے کی طرف بات کی جارہی ہے۔۔
مسلمان کیلئے پہلے ایمان،اس کے بعد آزادی ہے اگر یہ دو چیزیں ہماری زندگی سے نکل جائیں تو یہ جو بودوباش اور سہولتیں ہیں یہ تو جانوروں کو بھی دستیاب ہیں۔۔
وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ مہاجرین کی سیٹوں سے متعلق مطالبہ ایسے نازک وقت میں آنا جب ” آپریشن بنیان المرصوص”، “معرکہ حق” کو جیتے ہوئے ہمیں تھوڑا عرصہ ہوئے ہیں، وہ فتح نظریاتی محاذ پر اس بیہودہ مطالبے کی زد میں آ کر ہم ہار جائیں۔۔
ہم نے تو اپنے آباؤ اجداد کی قبروں سے وفا کرنی ہے، ہماری زندگی میں تو یہ ایڈونچر ہو نہیں سکتا، وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ میں کوئی مراعات نہیں لیتا۔۔
سب سے کم تنخواہ میرے وزراء کی ہے، سارے مالیاتی اضافے جو مختلف سالوں میں ہوئے، ایڈہاک ریلیف الاؤسز ملا کر ،جو ان کا ٹیک اوے ہے، ہاؤس رینٹ مائنس کرکے دو لاکھ 22 ہزار روپیہ ہے، جو آپ کے گریڈ 14 سے لے کر 18 تک کسی بھی سینئر افسر کی تنخواہ سے کم ہے (جس کی 15سے 18 سال سروس ہے)، ابھی اس مہنگائی کے زمانے میں آپ کیا چاہتے ہیں کہ یہ سارے 1122 کے رضاکار بھرتی ہو جائیں ان کے نان نفقے کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے
، ہاں جہاں آپکو اصلاح کو مطلوب ہے، آئیں، بیٹھیں ڈیبیٹ کریں، اپنا نکتہ نظر دیں اور اگر آپ کی بات درست ہے تو اصلاح احوال میں پرابلم کیا ہے؟
وزیراعظم انوارالحق نے کہا کہ اینٹی پاکستان نظریہ کو یکسر رد کریں گے ، عوامی ایکشن کمیٹی کوئی ایک منظم سیاسی جماعت نہیں ہے، تاجر ہیں، نیشنلسٹ ہیں،مختلف الخیال، مزاج کے لوگ ہیں، ان کا کوئی ڈسپلن نہیں،۔
ففتھ جنریشن ڈاکٹرائن کیا ہے؟ آپ کو آپ کی سرحدوں کے اندر سے، حقوق کے نام پر اتنا ڈی سٹیبلائز کر دیا جائے کہ آپ اپنے ازلی اور روایتی دشمن کی طرف توجہ ہی نہ کر پائیں۔۔
وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ جمہوری آزادیاں کا تحفظ ہرممکن طور یقینی بنایا ہے ، خلاف آئین کسی بھی اقدام کو رد کریں گے
مزید یہ بھی پڑھیں:غزہ جغرافیہ نہیں، ایک چیخ ہے, رفح کراسنگ سے افسوسناک رپورٹ سامنے آگئی




