نظریہ کشمیر کو فنا کرنے کی کوشش کو ہر غیرت مند کشمیری آہنی ہاتھوں سےروکے گا، چوہدری انوار الحق

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) ہماری حکومت کو بنے دو سال چار ماہ ہوگئے ہم نے حکومت بناتے ہی روڈ انفراسٹریکچر پر کام کیا ، آزادکشمیر بھر میں 33 سو کلو میٹر سڑکیں تعمیر کیں۔جن کا ساٹھ فیصد کام مکمل ہوچکا ہے حالانکہ عمومی طور پر یہ کام پانچ سال میں مکمل ہوتا ہے

۔روڈ انفراسٹریکچر سیاحت کے فروغ کیلئے ضروری ہے اور ہم نے سیاحت اور روزگار کے فروغ کیلئے سڑکوں کا جال بچھا دیا ۔ان خیالات کااظہار وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوارالحق نے کشمیر ڈیجیٹل فورم سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے کہا کہ ہیلتھ پیکیج عوام کیلئے جاری کردیا ہے جبکہ تعلیمی پیکیج کا بھی جلد اعلان کرنے جارہے ہیں۔ آزادکشمیر میں تعلیمی ادارے اپ ڈیٹ کررہے ہیں ۔آزادکشمیر میں مفت تعلیم دی جارہی ہے ۔

وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے کہا کہ ہیلتھ پیکیج عوام کیلئے جاری کردیا ہے جبکہ تعلیمی پیکیج کا بھی جلد اعلان کرنے جارہے ہیں۔ آزادکشمیر میں تعلیمی ادارے اپ ڈیٹ کررہے ہیں ۔آزادکشمیر میں مفت تعلیم دی جارہی ہے ۔

وزیراعظم چوہدری انوارالحق کا کہنا ہے کہ رواں سال ہم نے ہیلتھ کارڈ کیلئے بلین روپے ۔ ہسپتالوں میں مشینری اور ادویات کیلئے ملین روپے بجٹ مختص کردیئے ہیں۔ نوجوانوں کیلئے لون یوتھ پروگرام کیلئے تین ارب مختص کردیئے ۔ آذادجموں وکشمیر بینک کو شیڈول کرنے کیلئے پلان تیار ہے جس کیلئے ہم نے سٹیٹ بینک آف پاکستان میں دس ملین کی سکیورٹی برداشت کی ۔

وزیراعظم چوہدری انوارالحق کا کہنا ہے کہ سستی بجلی اور سستا آٹا آزادکشمیر میں مقبول عوامی بیانیہ تھا جس کے حوالے سے وزیراعظم آزادکشمیر نے سب سے پہلے سینیٹ کمیٹی میں بات کی ۔ ستمبر 2023 کو سب سے پہلے میں نے سینیٹ کمیٹی میں آزادکشمیر عوام کا مطالبہ پیش کیا تھا ۔ تین روپے کسی کی ڈیمانڈ نہیں تھی یہ تو وفاقی حکومت کی شفقت ومحبت تھی کہ وفاق نے کشمیری عوام کو آٹا اور بجلی پر سبسڈی دے کرعوامی مطالبات پر عمل درآمد کروایا۔

وزیراعظم انوارالحق کا کہنا ہے کہ آزادکشمیر اسمبلی میں مہاجرین جموں وکشمیر کی نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ مسئلہ کشمیر سے دستبردار ہونے کے مترادف ہے ۔ آزادکشمیر اسمبلی میں مہاجرین جموں وکشمیر کی نشستیں  ریاست کی اکائی ہے ۔ اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کامہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کا مطالبات بھارتی ایجنڈے کی تکمیل تو ہو سکتی ہے مگر کوئی محبت وطن کشمیری یہ مطالبہ نہیں کر سکتا۔۔

وزیراعظم انوارالحق نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جس قیمت پر پاکستان کےشہری کو آٹا اور بجلی دستیاب نہیں وہ آزادکشمیر کے شہری کو دستیاب ہے ۔ اشیائے خورد ونوش کی ہر چیز مناسب ریٹ پر مل جاتی ہے ۔ آزادکشمیر کے نوجوان پاکستان کے اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ، پاکستان کی ترقی میں آزادکشمیر کے نوجوانوں کا اہم کردار ہے ۔

میں نے کبھی اپنی زندگی میں نہیں دیکھا کہ کسی پاکستان میں کسی کشمیری کو تعصب کی بنیاد پر اعلیٰ عہدوں یا ملازمت میں پیچھے رکھا گیا ہو ۔ معرکہ حق میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج پاکستان نے بھارت کے اندر گھس کر مارا ، اگر آزادکشمیر کے پرچم کے پیچھے پاکستانی پرچم کی طاقت نہ ہوتی تو کشمیر کو غزہ بننے میں کتنی دیرلگتی ، پوری مسلمہ امہ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑی ہونے کے باجود وہاں فلسطینیوں کی نسل کشی میں کمی نہیں آئی تو آزادکشمیر اور اس پار کے کشمیری کی آزادی میں بھی فرق ہے ۔ یہاں ریاستی پرچم لے کر نکل پڑتےہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو اپنا پرچم لہرانے کی بھی اجازت نہیں ہے ۔

وزیراعظم انوارالحق کا کہنا ہے کہ آزادکشمیر میں جتھے کی صورت میں ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش کسی محب وطن کشمیری کی ڈاکٹرائن نہیں ہوسکتی ۔ یہ بھارتی ایجنڈا تو ہوسکتا ہے ۔ پاک فوج کی مخالفت کرنے والے یہ ہوتے کون ہیں، کیا ان میں سے کسی نے کونسلر کا الیکشن بھی لڑا ہے؟

وزیراعظم نے کہا کہ دو سالوں میں ہم نے ریکارڈ ترقیاتی کام کیے ہیں، وزیراعظم آزاد کشمیر نے ترقیاتی کاموں کی تفصیلات شیئر کر دیں ۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ راستوں کی بندش سےآزاد کشمیر کے عام شہری کا نقصان ہے، ان کی نام نہاد پرامن تحریک کی حقیقت پوری دنیا نے دیکھ لی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:33 لاکھ کی نمائندگی کرنیوالی اسمبلی کو 10 ہزار لوگ یرغمال نہیں بنا سکتے،انوارالحق کی ایک بار پھر تنبیہ

Scroll to Top