(کشمیر ڈیجیٹل)دارالحکومت مظفرآباد کی شہری آبادی میں داخل ہونے والے نایاب نسل کے تیندوے کو 24 گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد محکمہ وائلڈ لائف نے قابو کرلیا۔
ابتدائی طور پر تیندوا شہر کے پلیٹ ایریا میں دیکھا گیا، جہاں شہریوں نے شور مچا دیا۔ شور اور ہجوم کی وجہ سے جانور خوفزدہ ہوکر ایک گھر کی سیڑھیوں کے نیچے جا چھپا، تاہم ریسکیو عملہ فوری طور پر متحرک ہوا اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ وائلڈ لائف حکام کے مطابق لوگوں کے پیچھا کرنے اور شور مچانے کی وجہ سے تیندوا بوکھلا کر بار بار جگہ بدلتا رہا، جس کے باعث اسے قابو کرنے میں تاخیر ہوئی۔
وائلڈ لائف ٹیم کے مطابق یہ تیندوا تقریباً 15 ماہ سے 2 سال کی عمر کا ہے اور اپنی فطرت میں نسبتاً دوستانہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ نایاب نسل پاکستان میں بہت کم پائی جاتی ہے، زیادہ تر مارگلہ اور خیبر پختونخوا کے جنگلات میں موجود ہے، جبکہ بھارت میں اس کی تعداد زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بلی کی نسل سے تعلق رکھنے والا ایک نایاب جنگلی جانور ہے۔
مانیٹرنگ آفیسر محکمہ وائلڈ لائف ڈاکٹر شائستہ نے بتایا کہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے باعث جنگلی جانور اپنی قدرتی رہائش چھوڑ کر شہری آبادی کا رخ کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ مظفرآباد میں تیندوے کے شہری آبادی میں داخل ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکاروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایسے مواقع پر رش اور شور سے گریز کریں تاکہ ریسکیو ٹیمیں محفوظ طریقے سے کارروائی کر سکیں۔ حکام کے مطابق تیندوے کو اب محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے بعد جنگل میں چھوڑ دیا جائے گا تاکہ وہ اپنی قدرتی زندگی گزار سکے۔




