ہٹیاں بالا (کشمیر ڈیجیٹل نیوز)سابق وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہنیپال اور یہاں کی صورتحال میں زمین آسمان کا فرق ہے کوئی غلط فہمی میں نا رہے۔۔۔سیاسی قیادت کو اب کھل کر بات کرنا ہوگی ورنہ بہت دیر ہوجائے گی مصلحت پسندی کی گنجائش نہیں رہی۔۔
حکومت کی غلطیوں کی وجہ سے حالات یہاں تک پہنچے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ نظام ختم کرنے کی کسی کوشش کا دانستہ یا نا دانستہ حصہ بنا جائے۔۔۔
میرٹ اہلیت و صلاحیت کی بنیاد پر فیصلے کرنے ناگزیر میں نے عوام کو ایم ایل ایز کی دہشت گردی سے بچانے کے لیے این ٹی ایس لایا تھا۔۔
سارے وسائل اور اختیار ایم ایل ایز کو نہیں دیے جاسکتے ہر جگہ میرٹ نہیں لائیں گے تو لوگوں کو مطمن نہیں کیا جاسکتا ہم گھر کی رکھوالی کے لیے کتا بھی نسلی رکھتے ہیں مگر ریاست کی رکھوالی کے لیے ووٹ دیتے وقت برادری مصلحت آجاتی ہے یہ ریت بدلنا ہوگی۔۔
ایکشن کمیٹی اگر آئینی دائرہ کار کے اندر بات چیت کرنا چاہتی ہے تو مذاکرات کیے جائیں یاد رہے آئین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت یہاں بیرونی کے ساتھ اندرونی خلفشار کو قابو پانے کے لیے اختیار حکومت پاکستان کا ہے۔۔
آزادکشمیر کو لاوارث نہیں چھوڑا جاسکتا یاد رہے آٹا بجلی کا مطالبہ منظور ہونے کے باوجود بھی 3 لاشیں گری تھیں ان خیالات کااظہار انہوں نے حلقہ انتخاب کے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہٹیاں بالا اور لائن آف کنٹرول سے ملحقہ چکوٹھی کے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انجمن تاجران ہٹیاں بالا کے عہدیداران و ذمہ داران ممبران ایکشن کمیٹی نے اس موقع پر سابق وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان سے ملاقات کی اورمطالبہ کیا کہ وہ مذاکرات کے لئے اپنا کردار ادا کریں ہم کوئی افراتفری پیدا نہیں کرنا چاہتے نا ہی قانون کو ہاتھ میں لیں گے تصادم کا ارادہ نہیں ایکشن کمیٹی نے حکومت سے مذاکرات کے طویل دور کیے لیکن حکومت نے تاخیری حربے استعمال کیے اب بھی معاملات کو سنبھالا جاسکتا ہے۔۔
راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ آج تک کوئی مائی کا لعل پیدا نہیں ہوا جو میرے منہ میں اپنی بات ڈال سکے میں منافقت نہیں کرتا رب کی ذات کے سوا کسی کا ڈر نہیں۔۔
ایکشن کمیٹی کو انڈین ایجنٹ نہیں کہتا لیکن انہیں اپنے رویے پر نظرثانی کرنا ہو گی یہ ریاست ہم سب کی ہے پاکستان ہمارا محافظ اور ہمدرد ہے۔۔
گالیاں اور نازیبا زباں اور قومی پرچم اتارنا درست عمل نہیں اس کی مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی چودہ روپے فی یونٹ بجلی دینے کا مطالبہ کر رہی تھی،
حکومت سترہ روپے فی یونٹ دینے پر رضا مند تھی اگر اس وقت انوارالحق نے میری بات سنی ہوتی، جو مشورہ میں نے دیا تھا اتنا زیادہ نقصان نہ ہوتا،سستی بجلی حکومت پاکستان نے دی میں اس میٹنگ میں موجود تھا جس میں فیصلے کیے گئے دو ہزار روپے آٹا دینے کے لیے حکومت کو 23 ارب روپے دینے پڑے،
ہم 90 ارب کی بجلی استعمال کرتے ہیں جبکہ صرف 6 ارب روپے کا بل دیتےاگر جوائنٹ ایکشن کمیٹی والے یہ کہہ دیں کہ تین روپے یونٹ انھوں نے کروائی ہے تو میں آج ہی اسی وقت سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لوں گا۔۔
میں حکومت کا نمائندہ نہیں میرا ان سے بھی اصولی اختلاف ہے مگر میں سیاسی مفاد ہے کے لیے ریاستی مفاد پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا اگر ایکشن کمیٹی آئین کے اندر رہتے ہوے مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو یہ ہونے چاہیں ہم انتشار نہیں چاہتے تاجران اچھے لوگ کاروبار کرنے والے کبھی کسی کو تکلیف میں نہیں ڈالتے اس میں کچھ دیگر ایسے لوگ شامل ہوگئے ہیں جن کے اپنے ایجنڈے ہیں۔۔
یہ لوگوں کو ویسے بتا رہے ہیں میں بعض باتوں میں جانا نہیں چاہتا لیکن عوام کو بھی حقیقت کا علم ہونا چاہیے کہ بجلی اور آٹا سستا کس نے کیا،میرے لیے تمام لوگ قابل احترام ہیں میرا کسی کے ساتھ کوئی تنازعہ،جھگڑا نہیں ہے ایک درد مندی کے ساتھ تاجروں سے گزارش کرنے آیا ہوں،یہاں سے لائن آف کنٹرول چند کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے یہ سڑک آزادی سے بھی قبل کی ہے اس پر لوگ کاروبار کرتے تھے اور ہمارا روحانی دارالخلافہ سرینگر اسی سڑک پر واقع ہے۔۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 38 مطالبات رکھے ہوئے ہیں،جن میں دو بنیادی مطالبے بجلی اور آٹے کی قیمتوں کے بارہ میں تھے وہ حکومت پاکستان نے اپنی مرضی سے عوام کی سہولت کے لیے پورے کیے،ہم نوے ارب روپے کی بجلی استعمال کرتے ہیں جو پاکستان سے آتی ہے اور حکومت پاکستان کو چھ ارب روپے دیتے ہیں پھر بھی پاکستان کو برا بھلا کہا جاتا ہے۔۔
ہمیں خدا کا خوف کرنا چاہیے،بجلی آٹا سستا کرنے کا فیصلہ وزیر اعظم پاکستان نے کیا اس میں افواج پاکستان نے مکمل ساتھ دیا،ایکشن کمیٹی میں ایک گروہ شامل ہو گیا جو حکومت پاکستان کے ساتھ ساتھ افواج پاکستان کو بھی برا بھلا کہتا ہے،چند ماہ قبل دشمن بھارت پاکستان پر حملہ کر رہا تھا جس کا پاک فوج نے بہادری کے ساتھ منہ توڑ جواب دے کر بھارت کو ناکوں چنے چبوائے
کوئی گروہ ایسا ہے جو بھارتی فوج کا مقابلہ کرے،ہم لوگ کسی بھی صورت میں ہندوستانی فوج کو نہیں روک سکتے ہیں فوج کو فوج ہی روکتی ہے اور لڑتی ہے ان کو بھی یہ برا بھلا کہنے میں سیکنڈ نہیں لگاتے ہیں،
دریں اثنا چکوٹھی میں تاجران سے خصوصی ملاقات میں اظہار خیال کرتے ہوے راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ اس کے علاوہ یہ دھمکیاں دیتے ہیں کہ ہم یہ جلائیں گے وہ جلائیں گے جس دن کسی نے کوئی جلانے کی کوشش کی اس دن انھیں دیکھ لیں گے،جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر کے اندر افراتفری پیدا کرنا چاہتی ہے لیکن ہم ان کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے،ہمارے بزرگوں نے بڑی مشکل کے ساتھ فوج اور قبائلیوں کے ساتھ مل کر یہ خطہ آزاد کروایا یہاں بڑی تعداد مہاجرین کی بھی ہے جنہوں نے دشمن کے ظلم وستم سے تنگ آکر اپنے گھر چھوڑے۔۔۔
ایکشن کمیٹی کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ مہاجرین کی سیٹیں ختم کی جائیں،مہاجرین جموں و کشمیر جوپاکستان میں آباد ہیں وہ ہمارے جسموں کا حصہ ہیں۔۔۔
کوئی میرا ایک بازو کاٹ دے اور مجھے کہے کہ کسی کے ساتھ کشتی کروں میں نہیں کر سکتا ہوں،ایک ہاتھ کی ایک انگلی بھی کاٹ دی جائے تو اس میں وہ طاقت نہیں رہتی یہ کون لوگ ہیں؟
یہ کیا چاہتے ہیں؟48 لاکھ ہندوؤں کو ہندوستان کی حکومت نے کشمیر کا ڈومسائل دے دیا ہے،وہ مسلمانوں کی جموں و کشمیر میں اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے،پندرہ اگست کو مودی نے جو تقریر کی ہے اس میں اس نے کہا تھا کہ کشمیریوں کو سرحدوں پر نہیں رہنے دیں گے یعنی وہ ہندوؤں کو سرحد کے قریب آباد کرکے مسلمانوں کی اکثریت ختم کرنا چاہتا ہے۔۔
اگر کل پاکستان کی حکومت پاکستان سے آزاد کشمیر سے منسلک ہونے والے پلوں کو بند کردیتی ہے تو بتایا جائے آپ پھر کیا کریں گے۔۔
سب چیزیں پاکستان سے آتی ہیں ہمارے پاس کیا چیز ہے،یہ لوگ آزاد کشمیر کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟اس لیے تاجر،عوام،ٹرانسپورٹر کسی ایسے احتجاج کا حصہ نہ بنیں جو ان کے مفادات کے خلاف ہو
مزید یہ بھی پڑھیں:جتھے کوخطے کا آئینی ڈھانچہ تباہ کرنے کی اجازت نہیں دینگے، راجہ فاروق حیدر




