سری نگر(کشمیر ڈیجیٹل)مقبوضہ کشمیر ضلع ڈوڈہ میں ایک منتخب عوامی نمائندے معراج ملک کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاری کے خلاف جمعرات کو مسلسل تیسرے دن بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہزاروں افرادنے کرفیو اوردیگر پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے معراج ملک کی رہائی کیلئے سڑکوں پرنکل کر احتجاج کیا۔ بھارتی پولیس اہلکاروں نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔
جھڑپوں کے دوران بہت سے پولیس اہلکار بھی جن میں دو افسران بھی شامل تھے زخمی ہوگئے۔ قابض حکام نے ضلع میں دفعہ 144نافذ ، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز کو بند اور انٹرنیٹ سروسز معطل کردی ہیں۔
معراج ملک کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھدروہ ، تھیتری اور گندو ہ تک پھیل گیا۔پولیس نے خواتین سمیت متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا جبکہ لوگوں کی نقل و حرکت کو روکنے کیلئے اہم دفاتر کے گرد سڑکوں کو خار دار تاریں بچھا کر بند کردیاگیاہے۔
پولیس اور بھارتی پیراملٹری اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ پولیس کی گاڑیاں سڑکوں پرگشت کررہی ہیں اورلاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے لوگوں کو گھروں سے گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی جارہی ہے ۔۔
ڈوڈہ میں مظاہرین پر قابض فورسز کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے خلاف بڑی تعداد میں لوگ سرینگر میں سڑکوں پر نکل آئے۔ پولیس نے مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا اور انہیں سرینگرپریس کلب کی طرف جانے سے روک دیاجہاں و ہ دھرنا دینا چاہتے تھے۔
مظاہرین نے پولیس کی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں ایک منتخب عوامی نمائندے کی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف آواز اٹھانا جرم بن گیا ہے۔مقبوضہ کشمیر کی تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے معراج ملک کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔
پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے معراج ملک کی گرفتاری کو درگاہ حضرت بل میں ہونے والے توہین آمیز اقدام سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی ایک کوشش قراردیاہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کمشنر میرپور ان ایکشن، تحصیلدارمعطل، اسسٹنٹ کمشنر برنالہ انکوائری افسر مقرر




