باغ(کشمیر ڈیجیٹل )سردار زرین خان رہنما پاکستان پیپلزپارٹی نے سو اپنےایک بیان میں کہا کہ آج سوشل میڈیا پر باغ کا ایک انتہائی دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا جس میں ایک گینگ ریپ کا کیس سامنے آیا ۔۔ جو قابل افسوس ہے ۔
سردار زرین خان کا کہنا تھا کہ ہمارا معاشرہ اس قسم کا کبھی بھی نہیں تھا اور نہ اس کا متحمل ہو سکتا ہے ۔ ہمیں سنجیدگی سے غور و فکر کرنا ہو گا معاشرے میں پیدا ہونے والے بگاڑ کے اسباب پر غور کرنا ہو گا اور اس کے سدباب پر بھی غور کرنا ہو گا ۔
اسباب میں سب سے بڑا سبب سوشل میڈیا کا غلط استعمال ہے ۔ ہم نے سوشل میڈیا کا منفی استعمال شروع کر دیا جس کا ہمارے معاشرے کو مسلسل نقصان ہو رہا ہے۔
دوسری بڑی وجہ قانون اور انتظامیہ کا کمزور ہونا ہے ۔جیسا کہ ہم سب کچھ عرصہ سے دیکھ رہے ہیں کہ آئے روز شرپسند لوگ جتھے بنا کر درخت کاٹ کر پتھر سڑکوں پر پھینک کر لوگوں کے راستے بند کرنے کا نہ صرف جرم کرتے ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر بھی کرتے ہیں ۔
یہ عمل سرا سر جرم ہے۔ ہماری انتظامیہ پولیس ان جرائم کرنے والے جتھوں کے سامنے بے بس ہوتی ہے یا پھر مذاکرات کرتی رہتی ہے یوں قانون اور انتظامیہ کمزوری دکھاتی ہے اور پھر اس کی تشہیر سوشل میڈیا پر بھی ہوتی ہے۔
یہ سب کچھ سوشل میڈیا پر دیکھ دیکھ کر جرائم پیشہ لوگوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور قانون کی کمزوری کا تاثر جرم کرنے میں مدد کرتا ہے۔
اگر ریاست قانون انتظامیہ کی رٹ مضبوطی سے قائم ہو قانون کا ڈر ہو تو اس قسم کا جرم کرتے وقت مجرم ہزار بار سوچے گا ۔
ایک دفعہ پھر یہی بات کہ ریاست کو خود کو ہارڈ سٹیٹ ثابت کرنا ہو گا ورنہ آئے روز لوگ جتھے بنا کر قانون پر حملہ آور ہوں گے۔
انتظامیہ قابون پر سختی سے عمل درآمد کرے قانون شکنی کی حوصلہ افزائی نہیں ہو گی۔ قانون کا ڈر ہو گا۔ جرائم میں کمی آئے گی۔ جہاں لاقانونیت ہو ۔ لوگ جتھے بنا کر درخت کاٹ کر پتھر پھینک کر راستے بند کر کہ نعرے ماریں تقریریں کریں گالیاں دیں اور ریاست تماشہ دیکھتی رہے اور ایسے لوگوں کو سوشل میڈیا پر ہیرو بنا کر پیش کیا جائے ۔
فتح کے جشن منائے جائیں تو ایسے میں عام نوجوان بھی منفی سرگرمیوں کی طرف راغب ہوتا ہے۔ وہ ہیرو ازم سے متاثر ہوتا ہے اور یوں معاشرے میں جرائم پیشہ عناصر جرائم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی یقینی بنانی ہو گی تب معاشرہ بہتر ہو گا۔




