امریکی عدالت نے متعدد ٹیرف غیر قانونی قراردےدیئے، ٹرمپ کا چیلنج کرنے کا اعلان

واشنگٹن:امریکی اپیلز کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے متعدد عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا، تاہم انہیں فی الحال برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فیڈرل سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے 7-4 کے فیصلے نے ماتحت عدالت کے اس مؤقف کی توثیق کی کہ ٹرمپ نے ہنگامی اقتصادی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کرکے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اپیل دائر کرنے تک یہ ٹیرف 14 اکتوبر تک برقرار رہیں گے۔

فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ یہ فیصلہ امریکا کو تباہ کردے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی مصنوعات پر25 فیصد اضافی امریکی ٹیرف نافذ،مجموعی شرح 50 فیصدہوگئی

ان کے مطابق تمام ٹیرف اب بھی نافذ ہیں، اپیلز کورٹ نے غلط اور جانبدارانہ فیصلہ دیا، سپریم کورٹ کی مدد سے ٹیرف کو قوم کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ عدالتی فیصلہ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ انہوں نے ٹیرف کو اپنی اقتصادی پالیسی کا اہم ہتھیار بنایا تھا۔

اس فیصلے سے یورپی یونین سمیت بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو 200فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دیدی

یہ بھی غیر یقینی ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے حق میں فیصلہ نہ دیا تو ان ٹیرف کے تحت جمع کیے گئے اربوں ڈالرز کا مستقبل کیا ہوگا۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران مختلف ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کیے تھے جن کا مقصد امریکی معیشت کو مضبوط بنانا تھا۔

Scroll to Top