مظفرآباد(ذوالفقار علی+کشمیر انوسٹی گیشن ٹیم)
حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر کو 9 ارب 61 کروڑ روپے کی ترقیاتی گرانٹ جاری کر دی جس کی منظوری صدرِ پاکستان نے 22 اگست کو دی تھی۔ یہ رقم مالی سال 2025-26 کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کیلئے بلاک ایلوکیشن کی صورت میں فراہم کی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک مراسلے کے مطابق، یہ فنڈز صرف اُن منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے جو مالی سال 2025-26 کے لیے پہلے سے منظور شدہ ہیں۔ حکومتِ پاکستان رواں مالی سال کے دوران آزاد کشمیر کو مجموعی طور پر 31 ارب روپے کی ترقیاتی گرانٹ فراہم کرے گی۔
آزاد کشمیر کی حکومت نے اپنے بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 49 ارب روپے مختص کیے ہیں، جن میں 31 ارب روپے پاکستان کی طرف سے ترقیاتی گرانٹ اور 2 ارب روپے غیر ملکی امداد ہے۔ آزاد کشمیر کی حکومت نے یہ دعوی کیا ہے وہ 17 ارب روپے آزاد کشمیر کی اپنی متوقع آمدنی سے خرچ کرے گی۔ تاہم، یہ 17 ارب روپے بجٹ میں حقیقتاً مختص نہیں کیے گئے۔ حکومت نے اپنے بجٹ میں 261 ارب روپے آمدنی اور اتنے ہی غیر ترقیاتی اخراجات ظاہر کیے ہیں، جن میں ترقیاتی بجٹ کے لیے 17 ارب روپے شامل نہیں۔
آزاد کشمیر حکومت نے کل بجٹ 310 ارب روپے ظاہر کیا ہے، جس میں 261 ارب روپے غیر ترقیاتی اور 49 ارب روپے ترقیاتی اخراجات شامل ہیں۔ لیکن چونکہ ان 49 ارب میں سے 17 ارب صرف زبانی دعوے کی حد تک ہیں اور بجٹ کا باضابطہ حصہ نہیں، اس لیے اصل ترقیاتی بجٹ 33 ارب روپے اور کل بجٹ 293 ارب روپے بنتا ہے۔ حکام کی جانب سے اس تضاد کی کوئی وضاحت فراہم نہیں کی جا رہی، جس سے شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔
آزاد کشمیر میں کئی تجزیہ کار یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے دی جانے والی ترقیاتی گرانٹ نہ صرف غلط استعمال ہو رہی ہے بلکہ اس میں بڑے پیمانے پر کرپشن بھی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ بلاک ایلوکیشن کے بجائے ہر آزاد کشمیر کی حکومت سے ہر منصوبے کی تفصیل حاصل کرے، منظوری دے، اور اس کے بعد رقم جاری کرے — اور ہر منصوبے کی خود نگرانی بھی کرے۔
واضح رہے کہ 20 اپریل 2023 کو آزاد کشمیر میں انوار الحق کی سربراہی میں مخلوط حکومت قائم ہوئی۔ اس کے بعد سے اب تک حکومتِ پاکستان آزاد کشمیر کی حکومت کو تقریباً 74 ارب روپے کی ترقیاتی گرانٹ دے چکی ہے، جس میں مالی سال 2023-24 اور 2024-25 کے دوران صرف سڑکوں پر 30 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ یہ رقم محکمہ مواصلات کے ذریعے خرچ کی گئی، اور ان میں سے زیادہ تر لنک روڈز تھیں، مگر زمینی سطح پر اس خرچ کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آتا۔
صرف 2005 سے لے کر اب تک پاکستان نے آزاد کشمیر کو تقریباً 350 ارب روپے کی ترقیاتی گرانٹ دی ہے۔ اس میں سے 5 ارب روپے پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں پر خرچ کیے گئے، 4 کروڑ روپے ان پناہ گزینوں پر خرچ ہوئے جو آزاد کشمیر میں 20 کیمپوں میں پچھلے 36 برس سے مقیم ہیں، جبکہ 344 ارب 96 کروڑ روپے آزاد کشمیر میں خرچ کیے گئے۔
تاہم، ان میں سے زیادہ تر رقم ان تین اضلاع میں خرچ کی گئی جو 2005 کے زلزلے سے متاثر نہیں ہوئے تھے۔ لیکن آج تک وہاں نہ کوئی اسٹیٹ آف دی آرٹ سڑک تعمیر ہوئی، نہ اسکول، کالج یا اسپتال۔ سوال یہ ہے کہ یہ رقم کہاں خرچ کی گئی اور کن منصوبوں پر خرچ ہوئی؟ کیونکہ زمین پر ان منصوبوں کا کوئی وجود نہیں۔اس رقم مین سے 100 ارب روپے سی زیادہ صرف سڑکوں پر خرچ کیے گئے۔ لیکن زمین پر اس کا اثر نظر نہیں آتا ہے۔
مئی 2024 میں پاکستان کی وزارتِ خزانہ کی سیکریٹری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ آزاد کشمیر کی حکومت سے بارہا یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ بتایا جائے پاکستان کی جانب سے دی جانے والی گرانٹس کن منصوبوں پر خرچ ہوئیں اور کون سے اہم منصوبے مکمل کیے گئے، لیکن آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے آج تک کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان کی طرف سے آزاد کشمیر کی حکومت کو دی جانے والی گرانٹ میں وسیع پیمانے پر کرپشن کی گئی ہے، اور اس پیسے کا بڑا حصہ مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آزاد کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے تقابلی جائزہ لیا جائے، تو یہ اندازہ لگانا آسان ہو جائے گا کہ اس خطے کی سیاسی اور انتظامی اشرافیہ نے کس بے دردی سے بدعنوانی کی ہے۔ ان کے مطابق 2005 کے زلزلے میں مظفرآباد، ہٹیاں بالا، باغ، حویلی، سدھنوتی اور راولاکوٹ کے اضلاع شدید متاثر ہوئے تھے۔ ان علاقوں میں پاکستان کی رہنمائی میں بین الاقوامی برادری نے بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو کا عمل شروع کیا۔
تجزیہ کاروں اور سرکاری دستاویزات کے مطابق ان متاثرہ علاقوں میں اب تک تقریباً 200 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اس رقم سے سینکڑوں جدید طرز کے اسکول، کالج، یونیورسٹی، اسپتال، بنیادی صحت کے مراکز، تین ضلعی ہیڈکوارٹرز، سرکاری عمارتیں، سڑکیں اور پل تعمیر کیے گئے، جو زمین پر واضح طور پر موجود ہیں۔
اسی طرح 2014 کے سیلاب کے بعد حکومتِ پاکستان نے جنوبی اضلاع—باغ، راولاکوٹ، حویلی، سدھنوتی اور کوٹلی—میں 10 سڑکیں اور ایک پل تعمیر کیا، جو آج بھی زمین پر موجود ہیں۔ یہ منصوبے ایشیائی ترقیاتی بینک سے قرض لے کر مکمل کیے گئے، جن پر تقریباً 68 ملین ڈالر لاگت آئی، اور یہ قرض حکومتِ پاکستان واپس کر رہی ہے۔
سیلاب کے بعد اسلامک ڈویلپمنٹ بینک سے حاصل کردہ تقریباً 6 ارب روپے کے قرض سے 300 اسکول تعمیر کیے گئے، جو عملاً موجود ہیں۔ اسی طرح ورلڈ بینک نے بھی سیلاب کے بعد آزاد کشمیر میں تقریباً 4 ارب روپے خرچ کیے۔
اس کے علاوہ پاکستان کی حکومت نے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد اور میرپور میں دو میڈیکل کالجز، قانون ساز اسمبلی کی عمارت، زیر تعمیر کٹن پن بجلی گھر، مظفرآباد سے چکوٹھی، مظفرآباد سے وادی نیلم، مظفرآباد سے کوہالہ اور کوہالہ سے راولاکوٹ تک سٹکیں تعمیر کیں۔
اسی طرح رٹھوعہ ہریام پل پر بھی دس ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ اب پاکستان کی حکومت کی جانب سے دانش اسکولز بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیرِ نو، سیلاب کے بعد سڑکوں اور اسکولوں کی تعمیر، اور PSDP کے تحت منصوبوں پر مجموعی طور پر تقریباً 250 ارب روپے خرچ کیے گئے، اور یہ تمام منصوبے زمینی سطح پر موجود اور نظر آنے والے ہیں۔
اس کے برعکس، تجزیہ کار سوال اٹھاتے ہیں کہ آزاد کشمیر کی حکومتوں کو پاکستان کی جانب سے جو الگ سے 350 ارب روپے کی گرانٹ فراہم کی گئی، وہ کہاں اور کیسے خرچ ہوئی؟ ان کے مطابق، اس خطیر رقم کے باوجود زمین پر کوئی بڑا یا قابلِ ذکر منصوبہ دکھائی نہیں دیتا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آزاد کشمیر میں بدعنوانی کس قدر گہری جڑیں پکڑ چکی ہے۔
آزاد کشمیر میں عمومی طور پر یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومتِ پاکستان اس کرپشن کی شفاف تحقیقات کرائے، کیونکہ ان ترقیاتی فنڈز کی پرنسپل اکاؤنٹنگ اتھارٹی خود حکومتِ پاکستان ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں ملوث سیاسی اور انتظامی اشرافیہ کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنائے۔ مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاسی اور انتظامی اشرافیہ ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس لیے ان سے خود احتسابی کی کوئی توقع نہیں رکھی جا سکتی
مزید یہ بھی پڑھیں:سرکاری دوروں پر پابندی کے باجود آزادکشمیر کی سیاسی اشرافیہ بیرون ممالک اُڑان کیلئے بے قرار




