مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل )جامعہ کشمیر کی میزبانی میں نیشنل یوتھ ہیلپ لائن سیمینار منعقد ہوا جس کا مقصد طلبا و طالبات کو تعلیمی مسائل میں ماہرین کی معاونت فراہم کرنا تھا ، اساتذہ، طلبا و طالبات سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد میں شرکت ۔
آزادجموں وکشمیر یونیورسٹی مظفرآباد کی میزبانی میں ایکٹ انٹرنیشنل کے زیر اہتمام نیشنل یوتھ ہیلپ لائن (NYHL) سیمینار چہلہ کیمپس میں منعقد ہواجس میں اساتذہ، طلبا و طالبات، سیاسی و سماجی شخصیات سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔
سیمینار کے مقاصد میں ہیلپ لائن کا تعارف ، رسائی، بلا معاوضہ خدمات کی فراہمی ، طلبا و طالبات کو تعلیمی مسائل میں ماہرین کی معاونت، نفسیاتی عوامل میں مدد ، نوجوانوں کے مختلف مسائل میں رہنمائی، مستقبل کی منصوبہ بندی اور ہیلپ لائن کی خدمات سے متعلق اعتماد سازی کے امور شامل تھے ۔
یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے ڈین فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسز جامعہ کشمیر ڈاکٹر کاشف اقبال نے سیمینار کے شرکاء کو باضابطہ طور پر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے اپنے خیر مقدمی کلمات میں ایکٹ، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور یو این ایف پی اے کے اشتراک سے یونیورسٹی میں نیشنل یوتھ ہیلپ لائن کے سیمینار کے انعقاد پر اظہار مسرت کیساتھ اسے خوش آئند قرار دیا ۔
انہوں نے کہا کہ سیمینار طلبا و طالبات کی آگاہی کیلئے ایک اچھا اقدام ہے۔ اس سے نوجوان نسل اپنے نفسیاتی اور تعلیمی مسائل کے ساتھ روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے مشکلات کا نفسیاتی حل تلاش کرنے میں مفت معاونت حاصل کرسکتی ہے ۔ انہوں نے آگاہی سیمینار کے انعقاد میں یونیورسٹی کی طرف سے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کیا ۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے ڈپٹی ڈائریکٹر (R&AA) ریاض احمد قریشی نے ”نیشنل یوتھ ہیلپ لائن: کامیابیاں، جواز اور پائیداری“کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایکٹ انٹرنیشنل کا اہم مقصد آنے والے کل کیلئے خود کو بہتر بنانا ہے ۔ ادارے کے قیام سے اب تک کے سفر کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں اور قومی سطح پر سرکاری اداروں کے اشتراک سے پاکستان کے مختلف اضلاع میں خدمات فراہم کر رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ایکٹ مختلف شعبہ جات میں وسیع روابط اور ضروریات کے مطابق خدمات کی فراہمی کے ساتھ خواتین، بچوں اور نوجوانوں کے امور میں بھی معاونت کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارہ پاکستانی معاشرے اور روایات سے ہم آہنگ انداز فکر و عمل سے بہتر نتائج کے حصول کی راہ پر گامزن ہے ۔
ریاض احمد قریشی نے طلبا و طالبات کے روشن مستقبل کیلئے رہنمائی اور تعمیری منصوبہ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل یوتھ ہیلپ لائن نوجوانوں کے مسائل حل کرنے کے لئے ایک انتہائی اہم پلیٹ فارم ہے جو یو این ایف پی اے سمیت دیگر اداروں کے اشتراک سے غیر معمولی خدمات فراہم کررہا ہے ۔
بعد ازاں ایکٹ انٹرنیشنل کے نمائندے نے ادارے کا تفصیلی تعارف پیش کیا اور بتایا کہ یہ تنظیم گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے مختلف اضلاع میں سماجی اور تعلیمی خدمات انجام دے رہی ہے۔نیشنل یوتھ ہیلپ لائن کی منیجر کنول کاشف نے ”ہیلپ لائن کی خدمات، رسائی اور اثرات“کے موضوع پر خطاب کیا ۔
انہوں نے نوجوانوں کو درپیش نفسیاتی مسائل، ذہنی تناؤ، فکری دباؤ اور تولیدی صحت جیسے مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ہیلپ لائن کے مؤثر کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ پلیٹ فارم طلبا و طالبات کو پُرسکون ماحول میں تعلیم کے حصول میں گراں قدر خدمات انجام دے رہا ہے ۔
کنول کاشف نے کہا کہ نیشنل یوتھ ہیلپ لائن کا مقصد نوجوانوں کو ذہنی دباؤ، پریشانی اور نفسیاتی مسائل کے حوالے سے بروقت اورموثر معاونت فراہم کرنا ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ ہم ہر نوجوان کی آواز بنیں اور ان کے مسائل کے حل میں مدد کریں ۔ انہوں نے ہیلپ لائن کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اب تک ہزاروں نوجوانوں نے اس سے رہنمائی حاصل کی ہے ۔
یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر کے ڈاکٹر مدثر حفیظ نے ”نوجوانوں کو درپیش نفسیاتی و سماجی چیلنجز“کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوان صرف امتحانات کی تیاری یا نمبروں کی دوڑ میں نہیں بلکہ اپنی شناخت، مقصد حیات اور مستقبل کی راہوں کے انتخاب میں بھی شدید ذہنی دباؤ اور اضطراب کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف نصاب تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کا مقصد ایک متوازن، بااعتماد اور باشعور انسان کی تشکیل ہونا چاہیے۔
انہوں نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ ناکامی کا مطلب اختتام نہیں بلکہ ایک نئے آغاز کا موقع ہوتا ہے۔یو این ایف پی اے کے نمائندے نے اختتامی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل یوتھ ہیلپ لائن نوجوانوں کو درپیش نفسیاتی، تعلیمی اور سماجی مسائل میں بروقت رہنمائی فراہم کرنے کا ایک کامیاب پلیٹ فارم ہے ۔
انہوں نے ایکٹ انٹرنیشنل، ہائر ایجوکیشن کمیشن، نیشنل یوتھ ہیلپ لائن اور یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر کے انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ یہ اقدام نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے ایک سنگ میل ہے۔اپنے اختتامی خطاب میں ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر سید ندیم حیدر بخاری نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے آگاہی پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں جو نوجوانوں کو درپیش نفسیاتی، سماجی اور تعلیمی چیلنجز کے حل کے لئے رہنمائی فراہم کرتے ہیں ۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ایسے فورمز سے بھرپور فائدہ اٹھائیں ، اپنے مسائل کو چھپانے کے بجائے بروقت بات کریں، اور تعلیمی و کیریئر کے سفر کو اعتماد اور شعور کے ساتھ طے کریں۔ انہوں نے مستقبل میں بھی ایسے پروگرامز کے انعقاد کی امید ظاہر کی۔ آخر میں مہمانان گرامی کو شیلڈز پیش کی گئیں اور رضا کار طلبہ کو سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا۔




