(کشمیر ڈیجیٹل) سماہنی سے سابق وزیر حکومت و ممبر قانون ساز اسمبلی چوہدری علی شان سونی نے کہا ہے کہ پسماندہ علاقوں کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں نئے سرے سے سوچنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عوام اپنا سیاسی فیصلہ تبدیل نہیں کریں گے، ترقیاتی کام ممکن نہیں۔
کشمیر ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جن حلقوں سے انہیں ووٹ ملا، وہاں کے عوامی مسائل حل کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق یونین کونسل پونا کے عوام اگر مشاورت کے بعد انہیں اعتماد میں لیں اور مطالبہ کریں تو وہ الیکشن سے قبل ہی ان کے مسائل حل کرنے کو تیار ہیں۔
چوہدری علی شان سونی نے مزید کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ عوام سیاسی فیصلہ تبدیل نہ کریں اور ساتھ ہی تعمیر و ترقی بھی چاہتے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں مہاجرین کی نشستوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس فیصلے کی وہ مکمل تائید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں میں فرد واحد کی رائے کے بجائے جماعت کا اجتماعی فیصلہ ہی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بٹناڑہ احتجاج شدت اختیار کر گیا: پولیس کا مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال
دوسری جانب ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ لوگ ان کی اپنی آبائی یونین کونسل کی تباہ حال سڑکوں اور پسماندگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔




