مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہیں اپنی جماعت کے امیدواروں اور پوری ٹیم پر فخر ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم اور دیگر جماعتوں کی مہم میں واضح فرق ہے۔ یہ انتخاب کشمیر کی تاریخ کا اہم ترین انتخاب ہے اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ انتخابی عمل شفاف، منصفانہ اور غیر متنازع ہو۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ان خیالات کا اظہار مظفرآباد کے حلقے لچھراٹ میں وزیر حکومت ،پیپلز پارٹی کے امیدوار اسمبلی سید بازل علی نقوی کی رہائش گاہ میانی بانڈی میں اپنے اعزاز میں عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری سید نیئر حسین بخاری بھی موجود تھے ۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اس قدر اہم انتخابات میں یہی توقع کی جاتی ہے کہ انتخابی عمل مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدار ہو۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سماہنی : پولنگ سٹیشن پر ہنگامہ آرائی، مجسٹریٹ کا سخت نوٹس، 20ملزمان گرفتار
ان کے مطابق ایسا ہونے سے نہ صرف انتخابی عمل مضبوط ہوتا ہے بلکہ منتخب ہونے والی قانون ساز اسمبلی بھی عوامی مسائل حل کیلئے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں معمولاتِ زندگی کی بحالی ناگزیر ہے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات میں کمی آئے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے باعث انتخابات کسی حد تک متنازع ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ انتخابات سے قبل اس انداز میں حل نہیں کیا گیا جس طرح کیا جانا چاہیے تھا۔ مزید برآں، انتخابات کو مرحلہ وار کرانے اور ان مراحل کی ترتیب نے بھی انتخابی عمل کی شفافیت سے متعلق خدشات کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کی ذمہ داری صرف انتخابات میں حصہ لینا نہیں بلکہ عوام کے مسائل حل کرنا ہے، اور یہ کام صرف حقیقی عوامی مینڈیٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ عوامی اعتماد اور مینڈیٹ کے بغیر منتخب نمائندے اہم فیصلے کرنے کے لیے مطلوبہ اخلاقی اور سیاسی حیثیت نہیں رکھتے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کشمیر کے نوجوانوں اور سیاسی قیادت کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو مکالمے اور بامعنی بحث کے ذریعے کم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسائل بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر انتخابات، اب تک پیپلزپارٹی کے امیدوار آگے،ن لیگ دوسرے نمبر پر
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک جانب عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جدوجہد جاری رکھنا ضروری ہے، تو دوسری جانب ملک کے اندر بھی کشمیری عوام کو مزید حقوق دلانے کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام بھی وہی حقوق حاصل کرنے کے مستحق ہیں جو پاکستان کے دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ ان کے مطابق قانون سازی ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے کشمیری عوام کی آواز پورے ملک میں مؤثر انداز میں پہنچائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ کشمیری عوام پاکستان پیپلز پارٹی کے اس منشور پر اعتماد کریں گے جو حقِ حکمرانی، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار پر مبنی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی کو گزشتہ انتخابات سے بھی زیادہ مضبوط عوامی مینڈیٹ ملا تو وہ اپنے مجوزہ اصلاحاتی پروگرام پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کرے گی۔




