مظفرآباد(ذوالفقار علی ،کشمیر انوسٹی گیشن ٹیم )آزاد جموں و کشمیر میں معاشی ڈھانچے کی کمزوری، صنعتی اور نجی شعبے کی غیر موجودگی یا قلت اور متبادل روزگار کے مواقع کی شدید کمی کی وجہ سے خطے میں سرکاری ملازمتیں ہی روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکی ہیں۔
لیکن معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ
نوجوانوں کی اکثریت روزگار کے لیے صرف سرکاری ملازمتوں کو ہی محفوظ اور معقول راستہ سمجھتی ہے اور نجی شعبے کا کردار غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس قسم کا انحصار معاشی جمود پیدا کرتا ہے جو ایک دیرپا بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حد سے زیادہ انحصار نے نہ صرف اداروں پر غیر ضروری بوجھ ڈال دیا ہے بلکہ علاقے کی مجموعی سماجی و معاشی ترقی میں بھی رکاوٹیں پیدا کررہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سرکاری ادارے جنہیں مخصوص عوامی خدمات کی انجام دہی کے لیے قائم کیا گیا تھا، اب ضرورت سے زیادہ عملے کی موجودگی کی وجہ سے شدید مالی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بجٹ کا ایک بڑا حصہ صرف تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن پر خرچ ہو تو ترقیاتی اخراجات، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے اور انفراسٹرکچر کی بہتری پسِ پشت چلی جاتی ہے۔
ان کے مطابق اس وقت آزاد جموں و کشمیر کا ایک کھرب اٹھاون ارب روپے کا سالانہ بجٹ تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن میں صرف ہو رہا ہے، جو کہ ایک غیر متوازن مالیاتی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ صورتحال صرف مالی بوجھ تک محدود نہیں بلکہ انتظامی مسائل، کارکردگی میں کمی اور ادارہ جاتی غیر فعالیت کو بھی جنم دے رہی ہے۔ اس کی واضح مثال آزاد کشمیر اسمبلی سیکریٹریٹ کی ہے جہاں ملازمین کی کل تعداد چار سو انتالیس ہے۔
ان میں گریڈ سولہ سے گریڈ اکیس تک کے افسران کی تعداد ایک سو اکیس ہے، جبکہ گریڈ ایک سے گریڈ پندرہ تک ملازمین کی تعداد تین سو اٹھارہ ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ان ملازمین میں سے گریڈ ایک سے گریڈ دس تک کے ملازمین کی تعداد دو سو گیارہ ہے۔ ان میں نائب قاصد، ڈرائیور، دربان ( ڈور کیپر)، چوکیدار، ٹائلٹ کلینر، خاکروب، مالی، فراش، ویٹر اور مصالچی شامل ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق قاصد 2، نائب قاصد انتالیس، ڈرائیور اٹھائیس، دربان پندرہ، چوکیدار نو، ٹائلٹ کلینر چار، خاکروب گیارہ، مالی چودہ، فراش دو، ویٹر بیس اور مصالچی دو ہیں۔
آزاد کشمیر اسمبلی کے اراکین کی کل تعداد ترپن ہے جن میں وزیر اعظم کے علاوہ اکتیس وزراء، دو مشیر، دو معاونِ خصوصی ہیں۔ اس کے علاوہ اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، قائد حزب اختلاف اور 14 اراکین ہیں۔
رواں مالی سال کیلئے اسمبلی سیکریٹریٹ کا بجٹ پچاسی کروڑ تریسٹھ لاکھ انچاس ہزار روپے ہے۔ اس میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، قائد حزب اختلاف اور دیگر چودہ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں پر ایک کروڑ سترہ لاکھ ساٹھ ہزار روپے خرچ کیے جائیں گے۔
ملازمین کی تنخواہوں پر بائیس کروڑ چھیانوے لاکھ پچاس ہزار روپے خرچ ہوں گے جن میں سے افسران کی تنخواہوں پر بارہ کروڑ چھ ہزار روپے اور دیگر عملے پر نو کروڑ انہتر لاکھ باون ہزار روپے صرف ہوں گے۔
کل الاؤنسز کی مد میں باسٹھ کروڑ چھیاسٹھ لاکھ ننانوے ہزار روپے رکھے گئے ہیں، جن میں ریگولر الاؤنسز کی رقم چھپن کروڑ اکاون لاکھ ننانوے ہزار روپے ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کا مالیاتی نظام توازن کھو چکا ہے اور تقریباً تمام وسائل صرف سرکاری مشینری کو برقرار رکھنے پر خرچ ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عوامی خدمت کا مقصد پس منظر میں چلا گیا ہے۔
جب پہلے ہی اسمبلی سیکریٹریٹ میں اتنی بڑی تعداد میں ملازمین موجود ہیں اور اس پر بھاری بجٹ بھی خرچ ہو رہا ہے، تو حالیہ دنوں میں گریڈ ایک سے گریڈ سترہ تک کی مزید انتیس نئی آسامیاں مشتہر کرنا عوامی حلقوں میں بحث کا سبب بن گیا ہے۔
اس بحث کے دوران یہ سوالات زور پکڑ چکے ہیں کہ جب پہلے ہی اداروں میں ضرورت سے زیادہ عملہ موجود ہے، تو ان آسامیاں کی واقعی ضرورت تھی یا نہیں؟ اور اگر ضرورت نہیں تھی، تو کیا یہ محض سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی تقرریاں ہیں؟ اور کیا اس سے ادارے کی کارکردگی میں کوئی مثبت تبدیلی آئے گی؟
آزاد کشمیر میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیروزگاری کی شرح چودہ فیصد سے زائد ہے، لیکن محققین کا کہنا ہے کہ اصل بیروزگاری اس سے کہیں زیادہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے” اس صورتحال میں یہ سوالات مزید گہرے ہو جاتے ہیں کہ کیا نئی آسامیاں درحقیقت ضروری ہیں؟ کیا یہ شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار کے ذریعے پُر کی جائیں گی؟ یا یہ عمل اقربا پروری، سیاسی وابستگی یا اندرونی بھرتیوں کا ذریعہ بنے گا؟ ” ان کا کہنا ہے کہ اگر شفافیت اور میرٹ کا فقدان ہوا تو عوام کا اعتماد مزید مجروح ہو گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق” ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ سرکاری وسائل کا ضیاع ہے؟ کیونکہ نئے ملازمین کی بھرتی سے ادارے کے بجٹ پر مزید بوجھ پڑے گا جس کا براہِ راست اثر ترقیاتی اخراجات اور عوامی فلاحی منصوبوں پر پڑے گا جو پہلے ہی بری طرح متاثر ہیں۔”
ان کے مطابق ان سوالات کو صرف عوامی سطح کی شکایت سمجھ کر نظر انداز کرنا درحقیقت عوامی اعتماد کو زک پہنچانے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق حکومتی اداروں کی ساکھ اسی وقت بحال ہو سکتی ہے جب شفافیت، جوابدہی اور میرٹ کو ترجیح دی جائے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تجزیہ کاروں نے چند اہم اقدامات تجویز کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے اداروں کی کارکردگی کا آزادانہ آڈٹ کیا جانا چاہیے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا نئی بھرتیوں کی حقیقی ضرورت موجود ہے یا نہیں۔
ماہرین کے مطابق اس کے بعد نجی شعبے کی حوصلہ افزائی ضروری ہے تاکہ سرمایہ کاری، صنعت و تجارت اور چھوٹے کاروبار کو فروغ حاصل ہو اور متبادل روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے نوجوانوں کا انحصار صرف سرکاری ملازمتوں پر کم ہوگا۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر بھرتی ناگزیر ہو تو اسے مکمل شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقے سے انجام دینا چاہیے تاکہ مستحق افراد کو مواقع حاصل ہوں اور اداروں کی ساکھ برقرار رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ غیر پیداواری شعبوں پر اخراجات کم کرے اور تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور عوامی فلاح و بہبود جیسے شعبوں پر بجٹ کا بڑا حصہ مختص کرے۔
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت کی کامیابی کا معیار اس بات سے ناپا جاتا ہے کہ وہ اپنے مالی اور انسانی وسائل کو کتنے مؤثر طریقے سے عوامی مفاد میں استعمال کرتی ہے۔ ان کے مطابق غیر ضروری بھرتیاں اور مراعات کا بے جا خرچ دراصل ادارہ جاتی زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں پر حد سے زیادہ انحصار نہ صرف سرکاری اداروں پر اضافی بوجھ کا باعث بن رہا ہے بلکہ علاقے کی مجموعی سماجی و معاشی ترقی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اسمبلی سیکریٹریٹ میں پہلے سے موجود بھاری تعداد میں ملازمین کے باوجود مزید انتیس آسامیوں کے لیے اشتہار کا جاری ہونا اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ منصوبہ بندی اور حقیقی ضروریات کا ادراک حکومتی پالیسیوں سے غائب ہوتا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ روش ادارہ جاتی زوال کے ساتھ ساتھ عوامی اعتماد کی شدید کمی کا باعث بن سکتی ہے جو نظام کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی متنازعہ بن گئی، نئے انکشاف نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا




