مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل )آزاد جموں کشمیر سپریم کورٹ نے ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لئے ماحولیاتی عدالتوں کو فعال کرنے کا حکم دے دیا آزاد جموں و کشمیر۔ سپریم کورٹ نے ایک سول اپیل پر حکومت آزاد کشمیر کو سخت ہدایات جاری کردیں ۔یکم جولائی کو ہوئے فیصلے کی تفصیلات سامنے اگئیں۔
سپریم کورٹ کے ہدایات چیف جسٹس جسٹس راجہ سعید اکرم کی سربراہی مین قائم بنچ نے جاری کیں ۔ سپریم کورٹ اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے، یہ عدالت صرف ریکارڈ تک محدود تنازعات کو ہی نہیں حل کرسکتی بلکہ مشترکہ ماحولیاتی میراث کے تحفظ کے لیے ایک محافظ کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کا متن غیر فعال نگرانی کا دور گزر چکا ہے، اب فیصلہ کن اور اصولی اقدام کا وقت ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو اصلاح، بحالی اور تخلیق نو کے لیے ایک واضح ہدایات کے طور پر دیکھا جائے۔
اس فیصلے کی کاپی چیف سکریٹری کے زریعے حکومت آزاد جموں و کشمیر کو بھیجی جائے تاکہ اس پر عمل درآمد ہو۔ حکومت ایک اعلیٰ اختیاراتی ٹاسک فورس قائم کرے جو جنگلات کی قبضہ شدہ زمینی کو قابضین سے چھڑائے ۔
ٹاسک فورس میں محکمہ جنگلات، محکمہ مال ، اینٹی کرپشن اور عدالت کے سینئر نمائندے بھی شامل کئے جائیں ۔ اس ٹاسک فورس کو پورے آزاد کشمیر میں غیر قانونی طور پر قبضہ شدہ جنگلات کی تمام زمینوں کی نشاندھی اور تفتیش کرنے کا اختیار ہونا چاہئیے۔
جنگل کی زمین کی حدود کی ایک جامع GIS پر مبنی سیٹلائٹ میپنگ کی جائے تاکہ مداخلت سے پاک ڈیجیٹل ریکارڈ بنایا اورمحفوظ کیا جاسکے۔ جنگل کی زمینوں کی ڈیجیٹل میپنگ سے رئیل ٹائم میں زمینوں کی نگرانی کو ممکن بنایا جائے۔
گزشتہ بیس سال کے دوران محکمہ مال کے زمینوں کے ریکارڈز کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے ۔ حکومت ابتدائی طور پر جنگل کی زمینوں کو نجی ملکیت میں تبدیل کر نے والے عناصر، دھوکہ دہی پر مبنی لین دین اور زمینوں کے ملکیتی اندراجات کی نشاندھی کر کے اسے کالعدم قرار دے فراڈ سے جنگل کی زمینوں کو الاٹ کرنے اور کرانے کے ذمہ داروں کے خلاف ضروری فوجداری اور دیوانی کارروائی شروع کی جائے گی۔
جنگلات کے تحفظ کیلئے موجودہ قانونی فریم ورک ، فاریسٹ ایکٹ اور لینڈ ریونیو ایکٹ پر نظرثانی کرکے قانون کو مزید موثر بنایا جانا چاہیے جنگلات کے تحفظ کے قانون میں جوابدہی، اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے سخت دفعات شامل کی جائیں۔
غیر قانونی طور پر قبضہ شدہ جنگلات کی اراضی کو بلا تاخیر واپس حاصل کیا جائے ۔ جنگلات اور ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے مقدمات پر فوری فیصلے کئے جائیں جنگلات کی زمینوں پر قبضے، ریکارڈ میں چھیڑ چھاڑ یا تجاوزات کی حوصلہ افزائی میں ملوث پائے جانے والے سرکاری اہلکاروں کی نشاندہی، کر کے انہیں معطل کر کے ان کے خلاف تادیبی کارروائی اور فوجداری مقدمات درج کئے جائیں ۔
آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے جنگلات کی زمینوں کے ریکارڈ، زمینوں کی حیثیت کی اپ ڈیٹس، اور بحالی کی کوششوں تک عوام کی رسائی فراہم کرکے شفافیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ کی تفصیلی ہدایات
راولاکوٹ: تعلیمی بورڈ علاقائی دفتر کی ممکنہ منتقلی،شہریوں کا احتجاج، وزیراعظم سے مداخلت کی اپیل




