چیف الیکشن کمشنر کی عدم تعیناتی کیخلاف پٹیشن دائر،صدر، وزیراعظم سمیت حکومت کو نوٹس جاری

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل رپورٹ)چیف الیکشن کمشنر کی عدم تعیناتی کیخلاف آزاد کشمیر ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر :ہائی کورٹ نے صدر، وزیراعظم، وزیر قانون، چیف سیکریٹری، سیکرٹری لوک گورنمنٹ اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے۔:تمام فریقین کو 6 اگست تک جواب داخل کرانے کی ہدایت
:مسلم لیگ ن کے سابق امیدوار چوہدری اعجاز کھٹانہ کی آئینی درخواست پر سماعت۔ پٹیشن کی پیروی ممتاز ایڈووکیٹ سپریم کورٹ راجہ سجاد اور ایڈووکیٹ فیصل کر رہے ہیں

دائرپٹیشن میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی عدم تعیناتی آئینی انحراف ہے، وزیراعظم و دیگر ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے ۔ سابق چیف الیکشن کمشنر کی مدت 14 جنوری 2025 کو مکمل ہو چکی ہے
سات ماہ بعد بھی کوئی مستقل یا قائم مقام چیف الیکشن کمشنر مقرر نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم 1974 کے عبوری آئین کی دفعہ 50(2) کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ پٹیشنر کا موقف ۔درخواست میں وزیراعظم پر جان بوجھ کر تعیناتی مؤخر کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر نے خود پینل چیئرمین کشمیر کونسل کو ارسال کیاتھا۔بلدیاتی اداروں کی 30 سے زائد نشستیں چیف الیکشن کمشنر کی عدم موجودگی سے خالی ہیں

9 لوکل ممبرز، 7 چیئرمین یوسی، 5 وائس چیئرمین یوسی کی نشستیں خالی۔ بلدیاتی ضمنی انتخابات تعطل کا شکار، جمہوری نمائندگی خطرے میں۔وزیراعظم کو حکم دیا جائے کہ فوری طور پر اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کریں۔

پٹیشنر کا کہنا تھا کہ چیئرمین کشمیر کونسل کو آئینی مشورہ جاری کرنے کی ہدایت دی جائے۔عدالت عظمیٰ اپنے فیصلے میں آئینی عہدے پر 30 دن میں تعیناتی کرنا لازم قرار دے چکی ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن عملاً غیر فعال ہو چکا ہے۔ آزاد کشمیر میں جمہوری ادارے مفلوج، ہائی کورٹ سے فوری مداخلت کی استدعا

عدالت نے چیف الیکشن کمشنر کی عدم تعیناتی کیخلاف دائرپٹیشن پر اگلی سماعت 6 اگست کا تعین کردیا۔ تمام ذمہ داران کو جواب داخل کرانے کا حکم۔ عدالتی کارروائی آزاد کشمیر میں آئینی خلاف ورزی اور انتخابی عمل کے مستقبل کا تعین کرے گی۔

Scroll to Top