ممبر اسمبلی بننے کے لیے تعلیم کی شرط نہ ہونے پر وزیراعظم آزاد کشمیر کا موقف سامنے آ گیا

ممبر اسمبلی بننے کے لیے تعلیم کی کوئی بنیادی شرط مقرر نہ ہونے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم آزاد کشمیر نے اپنا اہم موقف پیش کر دیا ہے۔ 

وزیراعظم سے سوال اٹھایا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 24 میں ممبر اسمبلی بننے کی ضروریات میں تعلیم سے متعلق کوئی شق شامل نہیں ہے، جبکہ آزاد جموں و کشمیر کا لٹریسی ریٹ اسلام آباد کے علاوہ پاکستان کے دیگر تمام صوبوں کے مقابلے میں سب سے اوپر ہے اور 14 سے 25 سال کے تقریباً 90 فیصد سے زائد افراد تعلیم یافتہ ہیں۔ اس تناظر میں پوچھا گیا کہ کیا سولہویں ترمیم کے ذریعے ممبر اسمبلی کے لیے کوئی کم از کم تعلیمی معیار مقرر کیا جا سکتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں وزیراعظم آزاد کشمیر نے واضح کیا کہ آئین ایک ارتقائی دستاویز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے اندر اگر کوئی چیز رکھنا چاہیں تو کیوں نہیں آ سکتی، چاہے آپ اس میں پی ایچ ڈی کی شرط رکھیں یا پوسٹ ڈاکٹریٹ رکھیں، آپ آئین کے اندر جو چاہیں شامل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، وزیر اعظم افتخار گیلانی

بیوروکریسی کا کردار اور جمہوری اصول:

وزیراعظم آزاد کشمیر نے گفتگو کرتے ہوئے مزید وضاحت کی کہ جو بیوروکریسی ہوتی ہے، اس کی بنیادی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ وہ مقابلے کا امتحان دے کر اور تربیت حاصل کر کے آئے، کیونکہ ایگزیکٹو کی ایگزیکیوشن برانچ بیوروکریسی ہی ہوتی ہے۔

انہوں نے جمہوری اصولوں کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ آئینی تصور کے مطابق عوام کے پاس یہ بنیادی حق ہونا چاہیے کہ وہ جمہوری اصولوں کے تحت جس طرح کے فرد کو چاہیں اپنا نمائندہ منتخب کر سکیں۔

آئینی ترمیم اور اسمبلی میں بحث کا طریقہ کار:

وزیراعظم نے گفتگو کے دوران زور دیا کہ یہ محض ان کی ذاتی سمجھ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ آئین میں چیزیں شامل کرنے کا ایک مقررہ طریقہ کار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب آئینی ترمیم تجویز کی جاتی ہے اور آئین میں تبدیلی کی بات ہوتی ہے تو یہ تمام معاملات اسمبلی میں جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی میں جانے کے بعد ان تجاویز پر سیر حاصل بحث ہوتی ہے، اس کے حق اور مخالفت میں آراء سامنے آتی ہیں اور پھر کوئی حتمی نتیجہ نکلتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آئین میں جو چاہیں شامل کر سکتے ہیں، جس پر عوام متفق ہوں اور جو کچھ قومی مفاد میں ہو۔