قطر جانے والے پاکستانی مسافروں کے لیے لازمی شرائط کا اعلان

قطر نے پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے مفت سیاحتی ویزا آن ارائیول کی سہولت کی پیشکش کی ہے، جس کے تحت مخصوص سفری شرائط پوری کرنے کی صورت میں پاکستانی مسافروں کو اس خلیجی ملک میں 30 دن تک قیام کی اجازت ہوگی۔ رپورٹس کے مطابق قطر کی وزارت داخلہ نے ویزا آن ارائیول کی یہ سہولت پاکستان، بھارت اور تھائی لینڈ کے شہریوں کے لیے فراہم کی ہے۔

تاہم قطر میں قیام کی کل مدت مسافر کی تصدیق شدہ ہوٹل بکنگ پر منحصر ہوگی اور یہ کسی بھی صورت 30 دن سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ اس سہولت کے تحت اہل پاکستانی مسافر پہلے سے سیاحتی ویزا حاصل کیے بغیر بھی قطر کا سفر کر سکتے ہیں، جس سے تعطیلات یا مختصر دورے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے لیے سفری انتظامات میں کافی آسانی پیدا ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قطر حکومت کا پاکستانی شہریوں کیلئے مفت سیاحتی ویزے کا اعلان

پاکستانی مسافروں کے لیے چار لازمی شرائط:

قطر میں مفت ویزا آن ارائیول کی سہولت حاصل کرنے کے لیے پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز کو چار بنیادی اور لازمی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

پاسپورٹ کی میعاد: درخواست دہندہ کے پاس ایسا پاکستانی پاسپورٹ ہونا ضروری ہے جس کی میعاد قطر پہنچنے کی تاریخ سے کم از کم تین ماہ تک باقی ہو۔

کنفرم واپسی کا ٹکٹ: مسافروں کے پاس قطر روانگی سے قبل واپسی کا تصدیق شدہ ہوائی ٹکٹ ہونا لازمی ہے۔

ڈسکور قطر کے ذریعے ہوٹل بکنگ: زائرین کے لیے ضروری ہے کہ ان کے پاس صرف اور صرف سرکاری ‘ڈسکور قطر’ ویب سائٹ کے ذریعے کی گئی تصدیق شدہ ہوٹل کی بکنگ موجود ہو۔ دیگر سفارتی ایجنسیوں یا رہائشی ویب سائٹس کے ذریعے کی گئی ہوٹل بکنگ اس سہولت کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔

منظور شدہ ہیلتھ انشورنس: مسافروں کو قطری حکام کی جانب سے منظور شدہ انشورنس کمپنی سے معتبر اور درست ہیلتھ انشورنس حاصل کرنا ہوگی۔

قطر میں پاکستانی شہری کتنے دن قیام کر سکتے ہیں؟

ویزا آن ارائیول کی اس سہولت کے تحت اہل پاکستانی زائرین قطر میں زیادہ سے زیادہ 30 دن تک قیام کر سکتے ہیں۔

تاہم، قیام کی اصل اجازت کی مدت مسافر کی تصدیق شدہ ہوٹل کی بکنگ کے دنوں کے حساب سے کم بھی ہو سکتی ہے، لیکن یہ قیام کسی صورت 30 دن کی حد سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ قطر جانے کا ارادہ رکھنے والے پاکستانی مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امیگریشن کلیئرنس کے دوران کسی بھی قسم کی دشواری سے بچنے کے لیے روانگی سے قبل ان تمام چاروں شرائط کو لازمی پورا کریں۔