مظفرآباد میں پیش آنے والے کوٹھیان فائرنگ کے واقعے پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے الزام قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد کیا گیا تھا، جبکہ اطلاعات کے مطابق یہ فائرنگ مبینہ طور پر اپنے ہی کسی ساتھی کے پستول سے گولی چلنے کے نتیجے میں پیش آئی تھی۔ حقائق کی تصدیق کے بغیر ایسے من گھڑت الزامات پھیلانے سے عوام میں شدید اشتعال اور امن و امان کو سنگین خطرات لاحق ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اس حساس صورتحال پر مظفرآباد کے شہریوں نے کشمیر ڈیجیٹل کی اس خصوصی رپورٹ میں اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔
شہریوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے اندر یہ جو کالعدم ایکشن کمیٹی احتجاج کر رہی ہے، اس کا بنیادی اصول پرامن ہونا چاہیے تھا اور احتجاج ہمیشہ اسلحے کے بغیر ہونا چاہیے تھا۔ لیکن یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ احتجاجی کیمپوں میں اسلحے کے ساتھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف اس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے شہریوں نے بتایا کہ بہت سے ایسے عناصر موجود ہیں جو اپنی ذاتی دشمنیوں کو بھی اس طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر سیکیورٹی فورسز کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ واقعے کے حوالے سے بتایا گیا کہ بچے کی موت کا جو افسوسناک واقعہ رپورٹ ہوا، وہ مبینہ طور پر ان کے اپنے ہی کسی ساتھی کے ہتھیار سے گولی چلنے کی وجہ سے پیش آیا۔
ریاست کی تحمل کی پالیسی اور مذاکرات کی اہمیت:
شہریوں نے موقف اختیار کیا کہ ریاست کی طرف سے فی الحال کوئی زبردستی یا آپریشن نہیں کیا جا رہا ہے، کیونکہ حکومت چاہتی ہے کہ معاملات خوش اسلوبی سے ڈائیلاگ کے ذریعے حل ہوں تاکہ وہ خود دھرنے سے اٹھ جائیں اور اس کے بعد بیٹھ کر بات چیت کی جا سکے کسی ایک شخص کو اس طریقے سے نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ شہریوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران کو اس باب کو یہیں ختم کر دینا چاہیے تاکہ زندگی ایک بار پھر اپنی اصل حالت میں بحال ہو سکے۔ کشمیر کی رونقیں، ثقافت، ترقیاتی کام، سکولوں کی تعلیم، ہسپتال اور عوام کی روزمرہ کی زندگی جو اجیرن بن چکی ہے، اسے دوبارہ پٹری پر لایا جانا چاہیے۔ تمام کشمیریوں کو اب امن، محبت اور رواداری کی راہ اپنانی چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: ضلع باغ : کالعدم ایکشن کمیٹی کے کارکن کی فائرنگ سے ساتھی زخمی، پروپیگنڈا بے نقاب
پچھلے چار ماہ کا دھرنا اور حکومتی رِٹ کا مطالبہ:
پچھلے چار ماہ سے جاری دھرنے اور احتجاجی سیاست پر بات کرتے ہوئے شہریوں نے کہا کہ مظاہرین کے ساتھ جب مذاکراتی عمل میں تعطل پیدا ہوا تو پورے آزاد کشمیر میں ایک غیر یقینی کی کیفیت پھیل گئی۔ اس دوران پیش آنے والے بدترین سانحات کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہریوں کا کہنا تھا کہ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہو سکتی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت یا تو اس مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنائے یا پھر قانون کی عملداری اور ریاست کی رِٹ کو بحال کرنے کے لیے فوری عملی اقدامات کرے، کیونکہ لوگوں کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی کھلی چھوٹ دینا قابل قبول نہیں۔ حکومت کو محض الزامات کی سیاست کرنے کے بجائے قانون کو فی الفور حرکت میں لانا چاہیے۔
عوام کی بیداری اور فتنے سے اعلانِ لاتعلقی:
ایک اور شہری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ موجودہ صورتحال میں جب کشمیری عوام نے اپنی حب الوطنی اور باشعور ہونے کا بھرپور ثبوت دیا تو کچھ طبقات کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی اور انہوں نے فسادات شروع کر دیے۔ راولاکوٹ سمیت دیگر علاقوں میں جب بازار کھلنا شروع ہوئے تو اس کے کاؤنٹر میں سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے واقعات کروائے گئے اور پھر اس واقعے کو بھی مختلف رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ اب عوام اتنے باشعور ہو چکے ہیں کہ وہ بخوبی جان چکے ہیں کہ کون پرتشدد کارروائیاں کر رہا ہے اور کون اپنے مقاصد کے لیے رونا پیٹنا مچا رہا ہے۔ اب عام لوگ ان عناصر کے فریب میں نہیں آنے والے اور انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس تمام تر فتنے سے صاف اعلانِ لاتعلقی کر دیا ہے۔




