پاکستانی آٹو مارکیٹ میں چائینہ3 نئی الیکٹرک اورہائبرڈ گاڑیاں متعارف

کراچی (کشمیرڈیجیٹل)بیسٹ وے گروپ نے چینی کار ساز کمپنی جیلی آٹو گروپ کو پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت تین نئی انرجی گاڑیاں پیش کی گئی ہیں۔ ان میں جیلی EX2 الیکٹرک ہیچ بیک، جیلی EX5 الیکٹرک ایس یو وی اور جیلی اسٹارے EM-i پلگ اِن ہائبرڈ ایس یو وی شامل ہیں۔

تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے بیسٹ وے گروپ کے مینیجنگ ڈائریکٹر عرفان محمد شیخ نے بتایا کہ بیسٹ وے آٹوموٹیو پاکستان میں جیلی کی واحد مجاز ڈسٹری بیوٹر ہے۔

گروپ کے مطابق، گاڑیوں کی مارکیٹ میں قدم رکھنا بیسٹ وے کی جانب سے آٹو موبائل شعبے میں باضابطہ انٹری ہے، جو ملک میں اس کے طویل مدتی سرمایہ کاری کے منصوبوں میں توسیع کی عکاسی کرتا ہے۔

نئی انرجی گاڑیاں (NEVs) ایسی گاڑیاں ہوتی ہیں جو روایتی اندرونی احتراقی انجن کے بجائے متبادل ایندھن یا بنیادی طور پر بجلی سے چلتی ہیں۔

کمپنی ابتدائی طور پر درآمد شدہ گاڑیاں فروخت کرے گی، جبکہ کراچی کے پورٹ قاسم میں واقع اپنے 24.71 ایکڑ پر محیط پلانٹ کو مقامی اسمبلی کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس پلانٹ میں 4 لاکھ 3 ہزار مربع فٹ سے زائد کورڈ جگہ موجود ہے اور اس وقت سالانہ 25 ہزار گاڑیاں اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بیسٹ وے کا ہدف ہے کہ اگلے سال تک پاکستان میں مقامی طور پر اسمبل کی گئی جیلی گاڑیاں سڑکوں پر نظر آنے لگیں۔

کمپنی نے صارفین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ملک بھر میں ڈیلرشپ نیٹ ورک قائم کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں پر 6 سال یا ایک لاکھ 50 ہزار کلومیٹر کی وارنٹی دی جائے گی، جبکہ بیٹری اور موٹر کے لیے 8 سال کی وارنٹی ہوگی۔

گاڑیوں کی آن لائن بکنگ اور یو بی ایل کے ذریعے فنانسنگ کی سہولت بھی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ مزید برآں، بیسٹ وے رینیوایبل ٹیکنالوجیز کے ذریعے ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ نیٹ ورک قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

بیسٹ وے سیمنٹ اس وقت 115 میگاواٹ کی استعداد کا حامل اپنا شمسی توانائی کا نظام چلا رہی ہے۔

کمپنی کے بیان کے مطابق گاڑیوں کی قیمتوں، بکنگ کی تاریخوں اور دیگر حتمی تفصیلات کا اعلان سرکاری ذرائع کے ذریعے کیا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران کاروں کی فروخت میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 43 فیصد اضافہ ہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق معاشی صورتِ حال میں بہتری کے باعث گاڑیوں کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔