میر رضا کی موت قتل قرار، پولیس تفتیش میں سنگین غفلت کی نشاندہی، جے آئی ٹی بنانے کی سفارش

کراچی: تاجر میر رضا علی کی موت کی وجوہات اور تفتیش میں ممکنہ غفلت کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں موت کو قتل قرار دیتے ہوئے پولیس کی تفتیش پر سنگین سوالات اٹھا دیئے جبکہ ایف آئی اے کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کی بھی سفارش کردی۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں سندھ کابینہ نے رپورٹ کو عام کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

رپورٹ میں پولیس تحقیقات کے دوران سنگین غفلت، ناکامی اور غیر پیشہ ورانہ طرز عمل کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میر رضا قتل کیس میں شواہد ضائع ہونے کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جبکہ ابتدائی مراحل میں حقائق چھپائے جانے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کو 126ملین ڈالرز کے پوسٹل فراڈ میں مطلوب ملزم کیسے پکڑا گیا؟

رپورٹ میں متنازع میڈیکل بورڈ کی تشکیل کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے اور اس میں حساس اداروں کے افسران کو شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں متاثرہ خاندان کی درخواست پر کیس کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کی سفارش کی ہے۔

مجوزہ جے آئی ٹی میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، سندھ رینجرز، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سینئر نمائندے شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عوامی اعتماد کی بحالی اور قیاس آرائیوں کے خاتمے کے لیے جے آئی ٹی کا قیام ضروری ہے۔ مختلف اداروں کی نمائندگی سے تحقیقات کو جامع اور غیر جانب دار بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس کے پاس تحقیقات کرنے کے اختیارات نہیں ہیں، اس لیے حتمی طور پر یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہے کہ شواہد چھپانے یا معاملے پر پردہ ڈالنے کی دانستہ کوشش کی گئی۔ تاہم، بعض ایسے اقدامات جن کی کوئی وضاحت نہیں ملتی، ان کا جواز پیش کرنا مشکل ہے اور ان سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیا گیا ہو۔

کمیشن نے سفارش کی کہ ایک اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے، جس کی سربراہی ترجیحاً وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سپرد ہو۔

یہ کمیٹی اس بات کی تحقیقات کرے کہ آیا ابتدائی دس روز کے دوران اس معاملے کی تفتیش میں شامل پولیس اہلکاروں میں سے کسی نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 201، 166(2) اور 218 پی پی سی کی خلاف ورزی کی ہے۔ کمیٹی کو جن اہلکاروں کو قصوروار پائے، ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کے علاوہ فوجداری کارروائی بھی شروع کرنی چاہیے۔

 جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں پولیس کی تفتیش پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کیس کا تنازع اس وقت پیدا ہوا جب موت کو پہلے خود کشی اور بعد میں قتل قرار دیا گیا۔ پولیس خودکشی کے مؤقف پر قائم رہی جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اس سے مختلف تھی۔

رپورٹ میں ڈاکٹر اسامہ کے رویئے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر اسامہ کا رویہ بچگانہ اور ایک طبی ماہر کے شایان شان نہیں تھا۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ڈاکٹر اسامہ کو کم از کم دو سال تک کسی بھی میڈیکولیگل ذمہ داری پر تعینات نہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:وادی نیلم: نگینہ بی بی قتل کیس فرانزک رپورٹ میں تاخیر، متاثرہ والد کا انصاف کا مطالبہ

 صوبائی حکومت کی جانب سے میر رضا قتل کیس میں کمیشن رپورٹ پر عملدرآمد کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیاہے جس کے مطابق وزیر داخلہ، قانون و پارلیمانی امور ذیلی کمیٹی کے کنوینئر ہوں گے۔

وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ اور سعید غنی کمیٹی کے ارکان ہوں گےجبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کمیٹی کو قانونی معاونت فراہم کریں گے، اس کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ کمیٹی کو سیکرٹریٹ معاونت فراہم کریں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کابینہ کی ذیلی کمیٹی کمیشن رپورٹ کے نتائج پر عملدرآمد کی نگرانی کرتے ہوئے اپنی سفارشات جلد از جلد وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی۔ کمیٹی کی سفارشات آئندہ کابینہ اجلاس میں بھی پیش کی جائیں گی۔