وادی نیلم: نگینہ بی بی قتل کیس فرانزک رپورٹ میں تاخیر، متاثرہ والد کا انصاف کا مطالبہ

ضلع نیلم کی تحصیل اٹھمقام کے علاقے اشکوٹ سے تعلق رکھنے والے محمد فرید مغل نے کہا ہے کہ ان کی بیٹی نگینہ بی بی کے مبینہ قتل کے مقدمے میں پوسٹ مارٹم اور فرانزک لیبارٹری رپورٹ میں تاخیر کے باعث انہیں انصاف کے حصول میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے انسپکٹر جنرل پولیس آزاد جموں و کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ اداروں کو رپورٹ جلد حاصل کرنے اور مقدمے کی تفتیش قانون کے مطابق مکمل کرنے کی فوری ہدایت کی جائے۔

سنٹرل پریس کلب مظفرآباد کے سائلین ڈیسک پر گفتگو کرتے ہوئے محمد فرید مغل نے بتایا کہ ان کی بیٹی نگینہ بی بی کی شادی تقریباً دس سال قبل محمد شوکت ولد محمد نذیر ساکن اشکوٹ سے ہوئی تھی۔ ان کے مؤقف کے مطابق، 25 جنوری 2026ء کی رات ان کی بیٹی کی موت واقع ہوئی، جس کی اطلاع انہیں اگلے روز دی گئی تھی۔

واقعات کی تفصیلی پس منظر اور قبر کشائی:

متاثرہ والد نے دعویٰ کیا کہ میت دیکھنے سے انہیں بیٹی کی موت طبعی معلوم نہیں ہوئی تھی، تاہم برادری کے بعض افراد کے اصرار پر تدفین کر دی گئی اور فوری طور پر پولیس میں رپورٹ درج نہ ہو سکی۔

یہ بھی پڑھیں: نیلم ویلی، محکمہ جنگلات کے ملازمین غائب،سیاسی مداخلت سے ادارہ تباہ

محمد فرید مغل کے مطابق، بعد ازاں انہوں نے متعلقہ انتظامی اور پولیس حکام سے باقاعدہ رجوع کیا، جس کے بعد 16 فروری 2026ء کو قبر کشائی کی گئی اور 17 فروری کو باضابطہ مقدمہ درج ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں نامزد ملزمان محمد شوکت اور محمد بنارس گرفتار ہوئے تھے، تاہم محمد شوکت کی بعد میں ضمانت منظور ہو چکی ہے جبکہ محمد بنارس کی درخواستِ ضمانت فی الوقت متعلقہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

رپورٹس میں تاخیر اور شفاف تفتیش کی اپیل:

انہوں نے کہا کہ مقدمے کے اندراج کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود پوسٹ مارٹم اور فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی، جس پر انہیں اور ان کے اہل خانہ کو شدید تشویش لاحق ہے۔

محمد فرید مغل نے وزیراعظم اور انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر سے پرزور مطالبہ کیا کہ فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹ جلد از جلد حاصل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، مقدمے کی مکمل شفاف تفتیش یقینی بنائی جائے اور شواہد کی روشنی میں تمام ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے یہ بھی اپیل کی کہ رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں ضرورت پڑنے پر مقدمے کی ازسرِنو تفتیش کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ انہیں اور ان کی مرحوم بیٹی کو انصاف مل سکے۔