پاور سیکٹرمیں بڑے پیمانے کی بے ضابطگیوں کو دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے، چیئرمین نیب

اسلام آباد: چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ کے مطابق نیب نے 9 ماہ میں 14کھرب روپےکی زمینیں واگزار کرائی ہیں جو 52 ارب ڈالر بنتے ہیں۔ پاور سیکٹرمیں بڑے پیمانے کی بے ضابطگیوں کو دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران چیئرمین نیب نذیر احمد بٹ نےکہا کہ  وزارت ریلوے پاکستان بننےکے بعد 8 لاکھ کنال لاپتہ زمینوں کا معاملہ لائی، نیب نے سندھ اور پنجاب سے مجموعی طور پر 2 لاکھ 35 کنال اراضی 9 ماہ میں واگزار کرائی ہے۔اس میں آئی آئی چندریگر روڈ کراچی سمیت اہم زمینیں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ملک ریاض کو بڑا جھٹکا،بحریہ آئیکون ٹاور نیب حکام نے قبضے میں لے لیا

 واگزار کرائی گئی ریلوے زمینوں کی مارکیٹ ویلیو 6.7 کھرب روپے ہے، حکومت چاہے تو  ایم ایل ون اور 2کے لیے ڈیڑھ کھرب آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرضہ لینےکے بجائے ان زمینوں کو بیچ کر پیسہ حاصل کرلے۔

چیئرمین نیب نےکہا کہ اس کے علاوہ لاہور میں کیپری سینما، انگولا سینما، رنگ محل، ہال روڈ پر بلڈنگ سمیت قیمتی زمینیں پنجاب بورڈ آف ریوینو کے حوالےکی گئی ہیں، قابضین کے خلاف مقدمات قائم کرکے زمین کے غیر قانونی استعمال سے حاصل کردہ مالی فوائد کا حساب بھی لیا جائےگا، مزید زمینوں کی ریکوری پر کام جاری ہے۔

چیئرمین نیب نےکہا کہ نیب نے پاور سیکٹرمیں بڑے پیمانے کی بے ضابطگیوں، کیپٹو پاور پلانٹس، آئی پی پیز، ٹیرف معاملات کو دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاور سیکٹر میں دن کی روشنی میں ڈاکے مارےگئے، آئی پی پیز ٹیرف دوبارہ طےکرنے پر بات نہیں کریں گے، اس میں بیرونی اور اندرونی سہولت کار ملوث ہیں مگر معاملات سارے دیکھیں گے، وزارت صنعت و پیداوار کے بیمار اور فعال یونٹس کے معاملات پر بھی کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خردبرد کیس، نیب نے 4 ارب روپے سے زائد کے ریکور اثاثے راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے کر دیے

ان کا کہنا تھا کہ بیرونی سرمایہ کاروں کو درپیش مشکلات اور ہراسانی کی روک تھام کے لیے انویسٹمنٹ پروٹیکشن کمیٹی قائم کی گئی ہے۔خلیجی جنگ کے بعد نہ صرف پیسہ بیرون ملک جانا رکا ہے بلکہ واپس آنا شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہ وزیراعظم کو سی ڈی اے کی تنظیم نو کی تجویز بھجوا ئی ہے، یہ کیسا ادارہ ہے جو زمینیں بیچ کر گزارہ کر رہا ہے۔