اسحاق ڈار اورعباس عراقچی کے مابین ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مابین ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورت حال اور مغربی ایشیا میں جاری پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مذاکرات اور سفارتکاری پرزور
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئےمسلسل مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

بغداد میں رابطہ
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق عباس عراقچی نے بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے 52ویں اجلاس میں شرکت کے دوران اسحاق ڈار سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

علاقائی صورتحال کا جائزہ
رپورٹس کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ امور اور خطے میں ہونے والی تازہ پیشرفت کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر مغربی ایشیا کی صورتحال اور علاقائی استحکام سے متعلق معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔

کشیدگی کم کرنے پر گفتگو
ایرانی میڈیا کے مطابق گفتگو میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے قیام کیلئے جاری سفارتی کوششوں پر بھی بات چیت ہوئی۔

دفتر خارجہ کی تصدیق
پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گفتگو میں علاقائی صورتحال اور بغداد میں جاری او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سفارتی ذرائع کے استعمال پر زور
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اور عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کو درپیش پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا اور سفارتی ذرائع کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔

قریبی رابطے برقرار رکھنے کا عزم
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ایران علاقائی معاملات پر مشاورت اور رابطوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

او آئی سی کا اجلاس جاری
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس جاری ہے، جس میں رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور اہم علاقائی و عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

علاقائی امن پر توجہ
پاکستان اور ایران خطے میں امن و استحکام کیلئے سفارتی روابط کو اہمیت دیتے ہیں۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان تازہ گفتگو میں بھی مذاکرات، سفارت کاری اور قریبی رابطوں کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:افغانستان کی صورتحال پر شدید تشویش ،طالبان دہشتگردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنائیں، اسحاق ڈار