قومی وائٹ بال ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے کہا ہے کہ سہ ملکی سیریز پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جبکہ ٹیم کا اصل اور بنیادی ہدف ورلڈ کپ جیتنا ہے۔ میگا ایونٹ کی تیاریوں کے سلسلے میں کنڈیشنز کے مطابق کھیلنے اور بہترین وکٹیں تیار کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
شاہین شاہ آفریدی کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جبکہ گزشتہ 4 ون ڈے سیریز کے دوران ٹیم کو بہتر انداز میں تشکیل دینے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ ٹیم میں کامل ہم آہنگی موجود ہے اور تمام کھلاڑیوں کی مجموعی توجہ صرف ورلڈ کپ جیتنے پر مرکوز ہے۔
سلمان علی آغا اور بابر اعظم کی صلاحیتوں کا اعتراف:
قومی کپتان نے سلمان علی آغا کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اچھے کرکٹر ہیں اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں ٹرپل سنچری بنا کر آ رہے ہیں۔ سلمان علی آغا اپنے کردار اور ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ شاہین آفریدی کے مطابق وہ ہمیشہ ٹیم کے لیے بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس بار بھی اچھی پرفارمنس دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیصلہ کن ٹی20 بارش کی نذر، بھارت اور ویسٹ انڈیز کی سیریز 2-2 سے برابر
بابر اعظم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے کہا کہ وہ قومی ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے۔ بابر اعظم ہمیشہ پاکستان کے لیے رنز بناتے رہے ہیں اور ٹیم کے لیے ان کی اہمیت سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بابر اعظم کی موجودگی ٹیم کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے، کیونکہ انہیں کپتانی کا وسیع تجربہ حاصل ہے اور دیگر کھلاڑی بھی ان سے مسلسل سیکھتے ہیں۔
400 رنز کے ہدف کی اہلیت اور نوجوان کھلاڑیوں کے مواقع:
شاہین آفریدی کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم میں بہترین اور اچھا بیٹنگ آرڈر موجود ہے اور حالات کے مطابق کھیلنے کی مکمل صلاحیت بھی موجود ہے۔ ٹیم 350 سے 400 رنز کا بڑا ہدف حاصل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے، تاہم میدان میں حتمی حکمت عملی کا تعین کنڈیشنز اور میچ کی تازہ صورتحال کو دیکھ کر ہی کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ٹیم کی اولین ترجیح میچز جیتنا اور پاکستانی شائقین کو خوشیاں دینا ہے۔
نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع دینے کے حوالے سے قومی کپتان نے کہا کہ نئے کھلاڑیوں کو مرحلہ وار ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ انہیں اپنی صلاحیتیں منوانے کا پورا موقع مل سکے۔ انہوں نے ون ڈے کرکٹ میں صائم ایوب کی بولنگ کو بھی انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو اس فارمیٹ میں ان کی بولنگ کی شدید ضرورت ہے۔




