مظفرآباد: سینئر تجزیہ کار مسعود الرحمن عباسی نے راجہ فاروق حیدر کی جانب سے کشمیر کونسل کی مخالفت اور اس سے جڑے ممکنہ ذاتی مفادات کے حوالے سے اہم تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔
مسعود الرحمن عباسی کے مطابق قانون ساز اسمبلی کی اہم گیلری میں بیٹھے ہوئے، جب ایوانِ قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر میں انوار الحق وزیراعظم بنے تو راجہ فاروق حیدر نے ہاتھ اٹھا کر ان کی حمایتی گفتگو کی اور کہا کہ انوار الحق ہمارے وزیراعظم ہیں، جبکہ اس موقع پر انہوں نے ایوان میں کچھ جذباتی الفاظ بھی ادا کیے تھے۔
تاہم اب جب راجہ فاروق حیدر کے سامنے یہ صورتحال آئی کہ وہ نہ تو وزیراعظم بن سکے، نہ صدرِ ریاست اور نہ ہی مسلم لیگ ن کا صدر بننے کا امکان رہا، تو انہوں نے اپنی ہی جماعت اور مسلم لیگ ن کی سابقہ کارکردگی کے خلاف بیانات دینا شروع کر دیے ہیں۔ اس وقت وہ کشمیر کونسل کے حوالے سے تنقیدی بیانات دے رہے ہیں، حالانکہ تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے جب کشمیر کونسل کے اختیارات کم کیے گئے تو اس وقت پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت نہ ہونے کے باوجود مرکزی قیادت نے ان کا پورا ساتھ دیا تھا اور کونسل کے اختیارات میں کمی کی گئی تھی۔
ماضی کے فیصلوں اور موجودہ سیاسی بیانات کا تناظر:
مسعود الرحمن عباسی نے مزید بتایا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں لائی جانے والی تمام ترامیم کا ماضی میں بھرپور ساتھ دیا گیا۔ تاہم آج جب کشمیر کونسل کے انتخابات مکمل ہو چکے ہیں، تو راجہ فاروق حیدر کونسل کے ممبران کے خلاف مسلسل بیانات دے رہے ہیں، حالانکہ تمام تر اعلیٰ عہدے اور مقام ملنے کے بعد انہیں اس نوعیت کے رویے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی قیادت کا مل بیٹھنا آئین کے تحفظ اور مسائل کے حل کے لیے ہے: راجہ محمد فاروق حیدر
بعض سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ راجہ فاروق حیدر ماضی میں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر اور انتہائی بااختیار وزیراعظم رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے تمام اختیارات کا بھرپور استعمال کیا اور اس وقت وفاق کی طرف سے بھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا جس سے ان کی حکومت عدم استحکام کا شکار ہوتی۔ لیکن اب اگر وہ اپنی ہی جماعت کی حکومت یا ان کے بنائے ہوئے کشمیر کونسل کے ممبران کے خلاف بات کر رہے ہیں تو یہ کسی تجربہ کار اور اہم سیاسی قائد کے شایانِ شان نہیں لگتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ان کی جماعت کی حکومت ہے اور انہیں حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہئیں، نہ کہ ممبرانِ کونسل اور مرکزی قیادت کے خلاف مختلف فورمز پر تنقید کریں۔
سیاسی ماہرین کی رائے اور پارٹی کے ساتھ وابستگی:
سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ آزاد کشمیر میں اس وقت راجہ فاروق حیدر کو کوئی بڑا عہدہ نہیں مل سکا، جس کی وجہ سے وہ اپنی ہی جماعت اور اس کے نمائندوں کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔
حالانکہ مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے انہیں وزیراعظم بنایا، پارٹی کی صدارت سونپی اور وہ آزاد کشمیر میں ن لیگ کے بانی رہنماؤں میں شامل ہیں۔ وہ جن دو انتخابات میں کامیا ب ہوئے، وہ بھی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ہی جیتی گئی نشستیں تھیں۔ لہٰذا اخلاقی و سیاسی تقاضا یہی ہے کہ وہ اس وقت حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں، نہ کہ حکومت، اس کے اقدامات یا مرکزی قیادت کی حکمت عملی کی مخالفت کریں۔




