خیبرپختونخوا میں 12ہزار سکولوں کی عمارتیں مخدوش ، تحقیقات میں انکشاف

پشاور کے نجی سکول میں پیش آنیوالے سانحہ کی تفتیش کرنے والی 3رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ کمشنر پشاور کو جمع کرا دی ہے جس میں سنسنی خیزانکشافات سامنے آگئے ہیں۔

 ذرائع کے مطابق کمیٹی کے ارکان نے جائے حادثہ اور ہسپتال کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے زخمیوں سے ملاقات کی اور شواہد اکٹھے کئے۔

یہ بھی پڑھیں:پشاور واقعہ، انکوائری کمیٹی قائم، تمام سکولوں کی عمارتوں کی جانچ کا بھی فیصلہ

تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے نجی سکول کی رجسٹریشن فوری طور پر منسوخ کی جائے۔

 تحقیقات کے دوران یہ تشویشناک انکشاف ہوا ہے کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں کسی بھی ادارے کے پاس سکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی فنی انسپکشن کرنے یاانہیں غیر محفوظ قرار دے کر سیل کرنے کا قانونی اختیار موجود ہی نہیں ہے۔

 رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی  (PSRA) سے نجی سکولوں کی عمارتوں کو سیل اور انسپکشن کرنے کا یہ بنیادی اختیار واپس لے لیا گیا تھا جس کے باعث نجی تعلیمی اداروں کے لیے حفاظتی چیک اینڈ بیلنس کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا۔

 رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں اس وقت 12 ہزار سے زائد سکولوں کی عمارتیں انتہائی مخدوش حالت میں ہیں، جبکہ پشاور شہر کے اندر مزید 3 سکولوں کی عمارتیں اس قدر خستہ حال ہیں کہ وہ کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پشاور اسکول سانحہ: وزیراعظم آزاد کشمیرکا گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

 اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت نے صوبے بھر کے تمام نجی سکولوں کی عمارتوں کے فوری معائنے اور حفاظتی جائزے کے لیے خصوصی معائنہ کمیٹیاں (Inspection Committees) تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ تمام اداروں کی فنی درستگی کو یقینی بنایا جا سکے اور مستقبل میں ایسے کسی بھی دلخراش واقعے کی روک تھام کی جا سکے۔