سرینگر:مقبوضہ جموں وکشمیر میں سیاسی اور مذہبی حلقوں نے وقف بورڈ کی جانب سے مساجد میں جمعہ کے خطبات کے لیے”یکساں موضوعات“ مقرر کرنے کی تجویز کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اورپیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے اس اقدام پر سخت اعتراضات اٹھاتے ہوئے اسے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا جبکہ متحدہ مجلس علماءپہلے ہی اورتجویز کو مسترد کرچکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لداخ کے 28مقامات کے نام بدلنے پر چین کی انڈیا کو وارننگ
جموں و کشمیر وقف بورڈ نے مقبوضہ علاقے کی تمام مساجد میں جمعہ کے خطبات کے لیے یکساں موضوعات متعین کرنے کی تجویز دی ہے۔اس اقدام کا مقصد مذہبی مقامات پر خطبات کے دوران مخصوص موضوعات کو اجاگر کرنا بتایا گیا ہے۔
منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے وقف بورڈ کی جانب سے ائمہ مساجد کو جمعہ کے خطبات سے متعلق ہدایات دینے کو ریاست کی جانب سے مذہبی معاملات میں ایک اور مداخلت قراردیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا ایجنڈا مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کے راستے تلاش کرنا ہے۔ ان کے مطابق یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کی طرح یہ اقدام بھی مذہبی معاملات میں یکسانیت لانے کی کوشش ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہاکہ یہ مساجد تمام مسلمانوں کے پیسوں سے تعمیر کی گئی ہیں اور ہمارے ائمہ جانتے ہیں کہ انہیں کیا کہنا ہے اور کب کہنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں انتخابی اصلاحات اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر مظاہرے
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ بھارتی حکومت میں اقلیتی امور کی وزارت کے باوجود مسلمانوں اور ائمہ مساجد کے معاملات کو سمجھنے کا مسئلہ برقرار ہے۔
انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر بی جے پی کے لیے ایک تجربہ گاہ بن چکا ہے۔نئی دہلی میں بھی ایسے ہی اقدامات دیکھنے کو ملے ہیں، جیسے پہلے جموں و کشمیر میں دیکھے جاتے رہے ہیں۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی ایسی کوشش ناقابل قبول ہے اور اسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے وقف بورڈ کی چیئرپرسن سے اس تجویز کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی میں متحدہ مجلس علماءنے پہلے ہی وقف بورڈ کی جانب سے مساجد میں جمعہ کے خطبات کے لیے یکساں موضوعات مقرر کرنے کی تجویز پر سخت اعتراض کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر: زرعی زمینوں پر تجارتی تعمیرات کا نیا قانون، قحط اور ماحولیاتی تباہی کے خدشات لاحق
متحدہ مجلس علماءنے ایک بیان میں کہا کہ کسی قانونی یا انتظامی ادارے کی جانب سے منبر سے دیے جانے والے خطبات کے موضوعات متعین کرنے کی تجویز ناقابل قبول ہے اور جموں و کشمیر کے مسلمان اسے کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔




