پی ٹی آئی سے مذاکرات آخری مرحلہ میں مراد سعید نے سبوتاژ کئے، محسن نقوی

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے آئین کے دائرے میں رہ کر اقدامات کئے، مذاکرات کے دوران دہشتگردی کے خاتمے سے متعلق نکات پر اتفاق اور 6 ترامیم کی تجاویز بھی قبول کی گئیں تاہم آخری مرحلے پر معاہدہ نہ ہونے کے باعث 2 روز کی محنت ضائع ہوگئی۔

 انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کے روز معاہدہ ہوجاتا تو آج ایمرجنسی نافذ نہ ہوتی، حکومت نہیں چاہتی تھی کہ ایمرجنسی لگے۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی حکومت کا پختونخوا کے 12اضلاع میں فوری فنڈز فراہمی کا فیصلہ

منگل کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے دن سے ہی بات چیت دہشتگردی کے خاتمے پر مرکوز تھی، حکومت نے مذاکرات کے دوران 6 ترامیم کی تجاویز قبول کیں اور طے شدہ تحریر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بھی فراہم کی گئی لیکن آخری مرحلے پر معاہدہ نہ ہوسکا۔

محسن نقوی نے کہا کہ اگر مذاکرات کے روز معاہدہ ہوجاتا تو آج ایمرجنسی نافذ نہ ہوتی، حکومت نہیں چاہتی تھی کہ ایمرجنسی لگے تاہم یہ بھی ممکن نہیں کہ فوج اور پولیس کے اہلکار جانیں قربان کرتے رہیں اور حکومت ان کا ساتھ نہ دے۔

وزیر داخلہ کے مطابق حکومت نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطے بھی کئے۔ انہوں نے بتایا کہ 10 تاریخ کو بیرسٹر گوہر سے رابطہ کرکے پوچھا گیا کہ معاہدے کے پیراگراف نمبر 4 میں کیا ترمیم درکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ڈیڈلاک کی ذمہ داری پی ٹی آئی قیادت پر عائد ہوتی ہے، ان کے مطابق ماضی میں بھی 26 نومبر کو بانی پی ٹی آئی کے ویڈیو پیغام اور دھرنا مؤخر کرنے کے معاملے پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔

محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تمام اقدامات آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق کیے گئے ہیں اور حکومت نے آئین سے باہر جاکر کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

 انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق ہر شق کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ کسی شق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:یہ 13سالہ نااہلی کا قصورہے ،مریم نواز کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر ردعمل

وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر کسی کے نزدیک آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو آئینی ماہرین اس کی نشاندہی کریں۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا اختیار 26 نومبر کو بھی موجود تھا، لیکن اس وقت یہ راستہ اختیار نہیں کیا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت پہلے ہی یہ اقدام کرنا چاہتی تھی تو پھر پی ٹی آئی قیادت سے مذاکرات اور رابطے کیوں کیے جاتے؟

وزیر داخلہ نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور افغانستان سے آنے والے افراد کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد میں سے تقریباً 80 فیصد افغانستان سے آرہے ہیں، ہمیں نہیں معلوم ان کا قبیلہ کیا ہے یا شناخت کیا ہے،

انہوں نے پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے رابطوں کا دعویٰ بھی کیا اور کہا کہ مناسب وقت آنے پر اس حوالے سے ثبوت پیش کیے جائیں گے۔

محسن نقوی نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل بھی وہ رات گئے تک رابطے کرتے رہے تاکہ مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق حکومت کو درپیش مشکلات کا اندازہ ہے لیکن کیا یہ مشکلات سیکیورٹی اہلکاروں کی جانوں سے زیادہ اہم ہیں؟

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی فیصلہ نہیں کر رہے تھے جب کہ مراد سعید نے مذاکرات سبوتاژ کیے۔ محسن نقوی کے بقول، صوبائی کابینہ کے بعض ارکان بھی یہ کہہ رہے تھے کہ مراد سعید کی وجہ سے انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔

وزیر داخلہ نے مزید دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے واقعات کی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے تو 10 میں سے 7 یا 8 افراد افغان نکلتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے جتنا اختیار دیا ہے، اسے امانت سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں کابل یا قندھار نہیں اسلام آباد کی پالیسی چلے گی، گورنر فیصل کنڈی

محسن نقوی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت کے بعض افراد کے طالبان سے تعلقات کے بارے میں انہیں معلومات تھیں اور وقت آنے پر وہ اس حوالے سے ثبوت پیش کریں گے۔ ان کے مطابق حکومت کو یہ بھی معلوم تھا کہ کون کس کو کتنی رقم دے رہا ہے۔