پشاور:گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن کا قیام پہلی ترجیح ہے اور اب صوبے کی پالیسی کابل یا قندھار سے نہیں بلکہ وفاقی حکومت طے کرے گی۔
انہوں نے پولیس کو جدید سہولتیں فراہم کرنے، اہلکاروں کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے برابر لانے اور دہشت گردی کے متاثرین کی مدد کا اعلان بھی کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں اب تک کتنی مرتبہ گورنر راج رہا؟ تفصیلات جانئے
پشاور میں مشیر اطلاعات اور مشیر داخلہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے کام شروع کردیا گیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت تمام ضروری وسائل فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام جنازے اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں۔ اب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام، صوبائی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے مل کر کام کریں گے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کا فیصلہ آخری آپشن ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی پالیسی اب کابل یا قندھار سے نہیں آئے گی، بل کہ صوبے کے معاملات سے متعلق پالیسی اسلام آباد سے طے ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ان پر اعتماد کیا ہے اور صوبے کی ضروریات پوری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کے مطابق پہلے ورکنگ ڈے پر صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا، جس میں امن و امان کی صورت حال اور سیکیورٹی کے معاملات پر توجہ دی گئی۔
پریس کانفرنس کے دوران گورنر کے پی نے کہا کہ پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی استعداد بڑھانا حکومت کی ترجیح ہے۔
سکیورٹی اداروں کو جدید سہولتیں اور درکار وسائل فراہم کیے جائیں گے، جب کہ خیبر پختونخوا پولیس کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے برابر لائی جائیں گی اور شہدا پیکج میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے پولیس کو 10 اے پی سی گاڑیاں فراہم کی ہیں۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس نے 42 ارب روپے کی ضرورت ظاہر کی تھی، تاہم یہ مطالبہ پورا نہیں کیا گیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کی ضروریات پوری کی جائیں گی اور شہدا کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام سے صوبے میں سرمایہ کاری آئے گی، جس سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ مشکلات کے باوجود مایوس نہ ہوں، کیونکہ دہشت گردی کا مقابلہ سب کو مل کر کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:قیام امن پہلی ترجیح ،تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے، گورنر خیبر پختونخوا
فیصل کریم کنڈی نے کہا پریس کانفرنس کے دورا یہ بھی بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کرنے والوں کا انتظار ہے، جب کہ ان کے بقول احتجاج کے لیے لایا گیا کنٹینر لاوارث پڑا ہے اور ہم انتظار کر رہے ہیں کہ کوئی آئے اور اس کو لے جائے نہیں تو اسے ٹی ایم اے والے لے جائیں گے۔




