اسلام آباد:وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو قائل کرنے میں ناکام رہے، مذاکرات اور دھمکیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔مولانا فضل الرحمان گارنٹی دیں تو ایمرجنسی معطل کرکے مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چودھری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خواہش تھی کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل ہوں اور انہوں نے 2 سے زائد مرتبہ اپوزیشن لیڈر کو مذاکرات کی دعوت بھی دیجبکہ ہم اپوزیشن لیڈر سے ملے اور معاملات حل کرنے کی کوشش بھی کی۔
یہ بھی پڑھیں:پختونخوا کی 11رکنی مشاورتی کونسل میں شامل افرادکی پیشہ ورانہ قابلیت کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری رہیں۔ صوبائی حکومت کو بار بار کہا دہشتگردی کے خلاف اقدامات کیے جائیںاور مذاکرات میں شریک پی ٹی آئی کے لوگ معاملات کا حل بھی چاہتے تھے۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ ہم نے ان سے کہا دہشتگردی کے خاتمے کے لیے 7 نکات پر عملدرآمد کی ضرورت ہے تو انہوں نے کہا صوبے اور ملک کی بہتری کے لیے 8 نکات پر عمل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق ہم پہلے سے بات کر رہے تھے اور موجودہ صورتحال میں اس کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں تھا جبکہ گزشتہ دنوں کہا بھی تھا کہ اگر ایمرجنسی لگی تو صوبائی حکومت کے رویئے کے باعث لگے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور رانا ثنا اللہ کے ہمراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور ان سے سیاسی پہلو پر بات چیت بھی ہوئی جبکہ مولانا فضل الرحمان نے آمادگی کا اظہار کیا کہ وہ معاملات کے حل کے لیے کردار ادا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان اور وزیراعظم کی بھی ملاقات ہوئی، جس میں وزیراعظم نے کہا پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کر کے مذاکرات کی طرف آجائے تو بانی سے ملاقات مسئلہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کہاکہ جیل مینوئل کے مطابق ملاقات کرائی جائے گی تاہم مولانا فضل الرحمان تحریک انصاف کو قائل کرنے میں ناکام رہے۔ یہاں مذاکرات اور دھمکیاں ایک ساتھ تو نہیں چل سکتے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں اب تک کتنی مرتبہ گورنر راج رہا؟ تفصیلات جانئے
طارق فضل چودھری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان آج بھی گارنٹی دیں کہ جو بات ہم نے پہلے کی ہوئی ہے اس پر تحریک انصاف کی لیڈر شپ آتی ہے تو ہم ایمرجنسی کے نفاذ کو معطل کر کے دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری لانگ مارچ کو ہینڈل کرنے کی پوری تیاری تھی جبکہ ہم صرف تحریک انصاف سے دہشتگردی پر تعاون چاہتے تھے لیکن یہ لوگ تو دہشتگردی کی مذمت کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔




