بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس کریک ڈاؤن میں سیکڑوں مظاہرین اور کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کو حراست میں لے لیا۔
سکیورٹی فورسز نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے شہر کے مختلف حصوں کو بھی مکمل طور پر بند کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں کاکروچ پھر سڑکوں پر آنے کو تیار، 48گھنٹوں کی ڈیڈلائن دیدی
کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے دی گئی احتجاج کی کال کو ناکام بنانے کے لیے شہر بھر میں ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور پیرا ملٹری اہلکار تعینات کیے گئے، مرکزی تجارتی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی اور درجنوں میٹرو اسٹیشنز اور بازار بند کر دئیے گئے۔
یہ احتجاج چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ووٹر لسٹوں میں کی گئی ان ترامیم کے خلاف کیا جارہا تھ جن کے حوالے سے ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اس سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو غیر منصفانہ فائدہ پہنچتا ہے۔
اگرچہ سکیورٹی فورسز نے وسطی دہلی میں احتجاج کے مقررہ مقام جنتر منتر کو پہلے ہی سیل کر دیا تھا لیکن شہر کے دیگر حصوں میں چھوٹے مظاہرے پھوٹ پڑے۔
پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے اور سینئر رہنماؤں سورو داس اور آسوتوش رانکا کو حراست میں لے لیا ہے۔ دیپکے نے حراست سے قبل ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں بتایا کہ ان کی گرفتاری کے بعد پارٹی رہنما اجنکیا شندے جنتر منتر پر احتجاج کی قیادت کریں گے۔
اس کے علاوہ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سیکرٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن اور معروف سیاستدان یوگیندر یادو کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
مشرقی بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کو بھی وسطی دہلی میں ایک بس اسٹینڈ کے قریب دھرنا دینے کے دوران حراست میں لے لیا گیا۔
دوسری جانب عام آدمی پارٹی کے رہنما اور دہلی کے سابق وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
دوسری جانب حکمران جماعت بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے مظاہرین کو انتشار پسند عناصر قرار دیتے ہوئے اس احتجاج کو ایک ناکام شو قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج کے دوران گرفتار مظاہرین کو رہانہ کرنے پر دوبارہ سڑکوں پر آنے کی دھمکی
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جنتر منتر پر جو کچھ ہو رہا ہے اور جو آپ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں، وہ پورے بھارت کی کہانی نہیں ہے۔ بھارت پرسکون ہے اور اچھی طرزِ حکمرانی کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔




