امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین اور روس نے توانائی کی تنصیبات پر جاری حملوں پر فوری طور پر جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں توانائی پر جنگ بندی ہوگئی ہے اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا پیوٹن سے اہم رابطہ، 3لاکھ ٹن ڈیزل فراہمی کی ڈیل کا اعلان
انہوں نے کہا کہ اس کی خلاف ورزی نہ کریں اور اس معاملے پر توجہ دینے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان یوکرین کے صدر زیلنسکی نے روسی ریفائنریز پر حملے یک طرفہ طور پر روکنے کے لیے امریکی دباؤ مسترد کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد کیا گیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں زیلنسکی نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ کے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے معلوم ہوا ہے جبکہ یوکرین کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق یوکرین اس جنگ بندی پر پہلے ہی تیار تھا اگر روس بھی اس کے لیے تیار ہو۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق زیلنسکی نے ٹرمپ کے تازہ بیان پر طویل ردعمل میں کہا کہ ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاہدے کے حوالے سے اعلان پر روس کی رضامندی بھی چاہتے ہیں اگر ایسا ہوا تو اہم اس معاہدے کا خیرمقدم کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی اس طرح کے معاہدے کا اعلان کیا تھا لیکن یوکرین یا روس کی طرف سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔
قبل ازیں یوکرینی صدر زیلنسکی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ روسی ریفائنریز پر حملے روکنے کے خواہاں ہیں صرف اس صورت میں کہ اگر روس بھی یوکرین کے توانائی کی تنصیبات پر حملے بند کرے۔
ادھرٹرمپ انتظامیہ نے روسی توانائی تنصیبات اور آئل ریفائنریز پر حملے روکنے کے لیے یوکرین پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے اسے ہتھیاروں کی فراہمی معطل کرنے کی دھمکی دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا بھارت کوجھٹکا، گرین کارڈ اسپانسرشپ پروگرام معطل
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہفتے اور اتوار کے روز امریکی حکام کی جانب سے موصول ہونے والی فون کالز یا بریفنگز کا حوالہ دیتے ہوئے یورپی حکام نے بتایا کہ امریکا، روس کی آئل ریفائنریز پر حملے رکوانے کے لیے یورپی ممالک اور یوکرین میں مسلسل لابنگ کر رہا ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ امریکی پیغام میں انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور ہتھیاروں کی فراہمی کے نظام پرل کو منقطع کرنے کی دھمکیاں شامل ہیں۔




