بھمبر (کشمیر ڈیجیٹل)پاکستان زندہ باد، پاکستان کو چلنے دو، آئے روز احتجاج بند کرو؛ بھمبر میں شہریوں کی انوکھی ریلی۔
احتجاجی مظاہروں اور سڑکوں کی بندش سے عوامی مشکلات میں اضافے پر تشویش، مریضوں، بزرگوں، خواتین، طلبہ اور محنت کش طبقے کو درپیش مسائل اجاگر کر دیئے۔
تفصیلات کے مطابق بھمبر میں شہریوں کی جانب سے پاکستان زندہ باد، پاکستان کو چلنے دو اور آئے روز احتجاج بند کرو کے عنوان سے ایک انوکھی ریلی نکالی گئی۔
ریلی میں آئے روز ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور سڑکوں کی بندش کے نتیجے میں عوام کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کی گئی،امن وامان کا پیغام دیا گیا،فساد کی بجائے اتحاد و اتفاق کا پیغام دیا گیا۔ففتھ جنریشن وار کو سمجھنے کا پیغام دیا گیا۔
ریلی کے شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ احتجاج کے دوران عام شہریوں کی مشکلات، مریضوں کی زندگیوں اور ملک کے معاشی و معاشرتی استحکام کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ احتجاجی مظاہروں کے باعث سڑکوں کی بندش سے سب سے زیادہ غریب اور متوسط طبقہ متاثر ہوتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر:خیبر پختونخوا میں گورنر راج ، شہریوں کا جشن، مٹھائیاں تقسیم
روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی دیہاڑی ضائع ہو جاتی ہے، دکانداروں اور کاروباری افراد کا کاروبار متاثر ہوتا ہے جبکہ ملازمین، طلبہ اور امتحانات میں شرکت کیلئے جانے والے امیدواروں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ریلی کے شرکاء نے کہا کہ ٹریفک میں پھنسنے والی ایمبولینسوں میں موجود مریضوں کی حالت مزید خراب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
آئے روز احتجاج، دھرنوں سے بزرگ شہریوں، زخمیوں اور دیگر ہنگامی طبی امداد کے منتظر افراد کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔
ایسے حالات میں چند منٹوں کی تاخیر بھی بعض اوقات انسانی زندگی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
شرکاء کے مطابق سڑکوں کی بندش سے اشیائے ضروریہ، ادویات، دودھ، سبزیوں، پھلوں اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء کی ترسیل متاثر ہوتی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کشمیر ہائوس میں بے ضابطگیاں، سب انجینئر کی تنخواہ بند ، جواب طلبی
سامان سے لدے ٹرک اور گاڑیاں راستوں میں پھنسنے سے سپلائی چین میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں اشیاء کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
اسی طرح ملازمت کے انٹرویوز، سرکاری دفاتر میں ضروری امور، عدالتی پیشیوں اور کاروباری معاملات کے لیے سفر کرنے والے شہری بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔
ریلی میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ مسلسل احتجاجی سرگرمیوں اور راستوں کی بندش سے ملکی معیشت، تجارتی سرگرمیوں، عوامی اعتماد اور معمولاتِ زندگی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تعلیمی اداروں میں حاضری متاثر ہونے، ہسپتالوں تک رسائی میں دشواری، مسافروں کی آمدورفت میں تعطل اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے جیسے مسائل بھی عام شہریوں کیلئے اضافی بوجھ بن رہے ہیں۔
شرکاء نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں پُرامن احتجاج اور اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے، تاہم اس حق کے استعمال کے دوران دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق، آزادانہ نقل و حرکت اور زندگی کی حفاظت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
مطالبات کے حل کے لیے مذاکرات، متعلقہ حکام سے رابطے اور پُرامن و قانونی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ احتجاج کے باعث عام شہریوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ریلی کا پیغام تھا کہ پاکستان سب کا ہے، اس کے استحکام، ترقی اور عوامی سکون کے لیے اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے۔
اختلافات اور مطالبات کا حل ایسا ہونا چاہیے جس میں نہ مریضوں کی زندگی خطرے میں پڑے، نہ غریب کی روزی متاثر ہو اور نہ ہی عام شہری اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوں۔پاکستان زندہ باد، پاکستان کو چلنے دو، عوام کو سکون سے جینے دو۔۔




