پشاور (کشمیر ڈیجیٹل)خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا اقتدار ختم ہوتے ہی پارٹی رہنما اقبال آفریدی بھی منظرِ عام سے یکایک غائب ہو گئے ۔
صوبے میں حکمرانی کا دور ختم ہوتے ہی پی ٹی آئی کی اعلیٰ اور درمیانی قیادت احتساب کے خوف سے ایک ایک کر کے روپوش ہو رہی ہے اور اقبال آفریدی بھی اسی سلسلے کی کڑی ثابت ہوئے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:تیمور سلیم جھگڑا بھی اچانک غائب، قانون سے بچنے کیلئے ڈرامائی حکمت عملی تیار
اقبال آفریدی کو بخوبی علم ہے کہ اب قانون کے سامنے انہیں پیش ہونا پڑے گا اور اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔
اسی لیے اقبال آفریدی نے احتساب کی کارروائیوں سے فرار پانے اور معاملے کو سیاسی رنگ دینے کیلئے اقبال آفریدی نے خود ساختہ روپوشی اور اغواء کا ڈرامہ تیار کیا گیاہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا: ایمرجنسی کا فیصلہ صوبے کے مشکل حالات دیکھ کر کرنا پڑا،محسن نقوی
ان کے قریبی ذرائع اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس یہ خبریں پھیلا رہے ہیں کہ اقبال آفریدی کو اغوا کیا گیا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ خود ہی قانونی گرفت سے بچنے کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ میں جا بیٹھے ہیں۔
روپوش ہونے سے قبل گاڑیوں کو سنسان مقامات پر چھوڑ کر ایسی فضا بنائی گئی تاکہ ان پر حملے یا زبردستی اٹھائے جانے کا تاثر قائم کیا جا سکے اور عوامی ہمدردی حاصل کی جا سکے۔




