خیبر پختونخوا میں پاک فوج کی تعیناتی ، نوٹیفکیشن جاری

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں امن و امان برقرار رکھنے اور سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پاک فوج کے دستوں اور وسائل کی تعیناتی کا باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کی منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد شہریوں کی جان و مال اور سرکاری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کشمیر ہائوس میں بے ضابطگیاں، سب انجینئر کی تنخواہ بند ، جواب طلبی

حکم نامے کے مطابق وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت جاری کیے گئے اعلان کی مدت کیلئے پاک فوج کی تعیناتی کی اجازت دی ہے۔

اس اقدام کے تحت پاک فوج صوبے میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے سول انتظامیہ کی معاونت کرے گی۔

آرٹیکل 245 کے تحت تعیناتی

وفاقی حکومت کی جانب سے جاری حکم نامے میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت خیبر پختونخوا میں پاک فوج کے دستوں اور ضروری وسائل کی تعیناتی کی منظوری دی گئی ہے۔

اس انتظام کے تحت فوج سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر امن و امان سے متعلق ذمہ داریاں انجام دینے اور شہریوں کی حفاظت میں معاونت کرے گی۔

حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ تعیناتی کا بنیادی مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور سرکاری تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں فوجی دستوں اور وسائل کی تعداد کا تعین متعلقہ حکام کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

حکم نامے کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا، جی ایچ کیو کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ سے مشاورت کے بعد صوبے میں تعینات کیے جانے والے فوجی دستوں اور وسائل کی تعداد کا تعین کریں گے۔

اس طریقہ کار کے تحت تعیناتی سے متعلق ضروری انتظامات متعلقہ حکام کی مشاورت سے طے کیے جائیں گے، تاکہ صوبے میں امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کے لیے درکار وسائل کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔

سرکاری گزٹ میں اشاعت

پاک فوج کی تعیناتی سے متعلق حکم نامہ آئندہ گزٹ آف پاکستان، پارٹ ٹو میں شائع کیا جائے گا۔ اس طرح وفاقی حکومت کے فیصلے کو سرکاری گزٹ میں باضابطہ طور پر شائع کرنے کا عمل بھی مکمل کیا جائے گا۔

وفاقی حکومت کے اس اقدام کے تحت خیبر پختونخوا میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کی قانونی بنیاد، مدت اور متعلقہ انتظامی امور کا تعین آئینی دفعات اور جاری حکم نامے کے مطابق کیا گیا ہے۔