باغ : ڈپٹی کمشنر باغ سید ممتاز حسین کاظمی کا کہنا ہے کہ ضلع باغ کی حدود میں ایک انچ بھی تجاوزات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا جبکہ ہائی وے ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی سخت ترین ایکشن لیا جائے گا۔
انہوں نے یہ دوٹوک وارننگ جاری کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہائی وے رولز کے خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیرات کے لیے این او سیز جاری کرنے والے عناصر کے خلاف بھی قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ریونیو عدالتوں کے نظام میں اصلاحات اور کیسز کے فیصلے:
ڈپٹی کمشنر نے ریونیو عدالتوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں میں سالوں تک کیسز چلنے کے پرانے نظام کو اب ہر حال میں ختم کرنا ہوگا۔انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ریونیو کیسز کے فیصلے نوے (90) دن کی مقررہ مدت کے اندر اندر کیے جائیں تاکہ عام عوام کو انصاف کے حصول کے لیے سالوں تک طویل انتظار نہ کرنا پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے رقم غائب، عدالت کا صارف کو رقم اور ہرجانہ واپس کرنے کا حکم
سید ممتاز حسین کاظمی کا اس موقع پر مزید کہنا تھا کہ ریونیو کیسز کی سماعت صرف تاریخیں آگے دینے کی حد تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس پر باقاعدہ اور قابلِ ذکر پراگریس ہونی چاہیے۔
ریکارڈ کی پیشی اور قانونی تقاضوں کی پاسداری:
انہوں نے احکامات جاری کیے کہ مقدمات میں ریکارڈ کی پیشی کے لیے زیادہ سے زیادہ پندرہ دن کا وقت دیا جائے تاکہ کارروائی میں تاخیر نہ ہو۔انھوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ نوٹس کی تعمیل سے لے کر فیصلے کے آخری مرحلے تک تمام تر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے جلد از جلد فیصلے کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے انتظامی اقدامات کا اصل اور براہ راست فائدہ عام عوام تک پہنچنا چاہیے، اس لیے روایتی میٹنگز اور صرف کاغذی کارروائی کی عادت کو اب بالکل ترک کرنا ہوگا۔
اجلاس کا انعقاد اور آفیسران کو ہدایات:
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسسٹنٹ کمشنرز، تحصیلداران اور دیگر ریونیو آفیسران و ملازمین کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس اجلاس میں تحصیل باغ، تحصیل ہاڑی گہل، تحصیل دھیرکوٹ، تحصیل بیر پانی اور تحصیل ریڑھ کے اسسٹنٹ کمشنرز سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
ڈپٹی کمشنر نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ روایتی اندازِ کار کو مکمل طور پر ترک کر کے حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کو اپنا بنیادی شعار بنا کر کام کرنا ہوگا۔
اجلاس کے دوران تمام آفیسران سے محکمانہ اقدامات میں مزید بہتری لانے کے لیے مفید تجاویز بھی لی گئیں اور آئندہ کے لیے نئے اہداف بھی مقرر کیے گئے۔




