بارش

مغربی ہواؤں کی انٹری، ملک کے بالائی علاقوں میں موسلادھار بارش کی پیشگوئی

محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق کشمیر سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے اور 9اکتوبر سے ایک نئے موسمیاتی نظام کے داخل ہونے کی نوید سنا دی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کی ملک بھر میں بارشوں کی پیشگوئی

محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں بادل جم کر برسنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ کشمیر، اسلام آباد، خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں اور گلگت بلتستان کے خطوں میں  تیز گرج چمک کے ساتھ بادل برسنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے وارننگ دی ہے کہ بعض مقامات پر تیز بارش ہو سکتی ہے اس لیے مسافروں اور شہریوں کو دوران سفر انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ  پیشگوئی کی گئی ہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں جن میں راولپنڈی، اٹک، جہلم، گوجرانوالہ، گجرات، نارووال، لاہور اور سیالکوٹ شامل ہیں، وہاں بارش کا قوی امکان موجود ہے۔

خوش آئند امر یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں ملک کے تمام چھوٹے اور بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی سطح بالکل معمول کے مطابق ہے اور کہیں بھی سیلاب کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔ دریں اثنا، محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ9 اکتوبر سے ایک اور طاقتور مغربی موسمیاتی نظام اسلام آباد اور ملک کے بالائی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

سرائے عالمگیر میں ہلکی بارش سے نظام زندگی مفلوج

بارشیں جہاں ایک طرف موسم کو خوشگوار بناتی ہیں، وہیں وہ سرائے عالمگیر کے باسیوں کے لیے شدید زحمت اور پریشانی کا باعث بن گئیں۔ شہر میں ہونے والی ہلکی سی بارش کے فوری بعد مین بازار کے اندر ڈھائی سے تین فٹ تک گندا پانی جمع ہو گیا جس نے پورے تجارتی مرکز کو ایک جوہڑ کی شکل دے دی۔

سڑکوں پر ہر طرف پانی کھڑا ہونے کے باعث سکول اور کالج جانے والے طلباء اور اپنے دفاتر کا رخ کرنے والے عام شہریوں کو شدید اذیت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی طبقہ تاجر برادری کا رہا جن کی دکانوں کے اندر گندا پانی داخل ہو جانے کی وجہ سے انہیں لاکھوں روپے کے مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں بارش اور برفباری سے سردی کی لہر شروع، نئی پیشگوئی سامنے آگئی

کراچی کی موسمی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلیاں

ادھر ملک کے ساحلی شہر کراچی کا موسم جزوی طور پر ابر آلود اور انتہائی مرطوب ریکارڈ کیا جا رہا ہے جہاں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تینتیس سے پینتیس ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ اس وقت شہر میں جنوب مغربی ہوائیں سات کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب پچاسی فیصد تک جا پہنچا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید حبس کا سامنا ہے۔

پاکستان میں تیزی سے بدلتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشوں کے روایتی معمولات میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ عموماً اکتوبر کے مہینے کو مون سون کے بعد کا ایک خشک اور معتدل دورانیہ سمجھا جاتا ہے، تاہم حالیہ برسوں کے دوران مغربی ہواؤں کے مسلسل سلسلوں نے اس روایتی موسمی رجحان کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔

شہری انفراسٹرکچر کی خامیوں اور بلدیاتی غفلت کا جائزہ

اس کے ساتھ ہی ملک کے چھوٹے اور بڑے شہروں میں بلدیاتی محکموں کی مجرمانہ غفلت اور نکاسی آب کا بوسیدہ نظام ہر سال معمولی بارشوں کے دوران بھی شہری زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کر دیتا ہے جس کی تازہ ترین اور واضح مثال سرائے عالمگیر کا مین بازار ہے۔ موجودہ موسمیاتی رجحانات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین شہری مسائل اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمارے شہری انفراسٹرکچر کے اندر انتظامی خامیاں موجود ہیں۔

9 اکتوبر سے ملک میں داخل ہونے والا نیا موسمیاتی نظام زراعت اور آبی ذخائر کے لیے تو یقیناً ایک خوش آئند پیشرفت ثابت ہو سکتا ہے، لیکن شہری آبادیوں کے لیے یہ مسلسل ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ سرائے عالمگیر میں محض ہلکی بارش سے پیدا ہونے والی تباہ کن صورتحال اور تاجروں کے لاکھوں روپے کے نقصانات اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ متعلقہ محکمے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے قطعی طور پر تیار نہیں ہیں۔

اگر بلدیاتی اداروں نے بروقت موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید اور پائیدار حکمت عملی مرتب نہ کی، تو آنے والے دنوں میں بارشیں نعمت کے بجائے مزید معاشی نقصانات کا باعث بنتی رہیں گی۔