کوٹلی (نامہ نگار) کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت عمر نذیر، خواجہ مہران، امتیاز اسلم نے ریاست مخالف سرگرمیاں تیز کردیں
راولا کوٹ دھرنے سے درجنوں مسلح افراد کو ضلع کوٹلی میں داخل کرکے شاہرات کی بندش، سپلائی لائن کاٹنے، فورسز کی نقل و حرکت پر حملوں اور راولا کوٹ طرز کے دھرنے قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے کوٹلی میں بروقت اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ریاست اور عوام کیخلاف فسادی جتھے کی ایک بڑی دہشتگردانہ سازش کو ناکام بنا دیا ۔
اس اہم کارروائی کے دوران 8 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جو ریاست کے امن و امان کو تباہ کرنے اور تخریب کاری کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
گرفتار ہونے والوں میں فسادی جتھے کا سرغنہ ایاز صدیق بھی شامل ہے جس کا اعترافی بیان سامنے آیا ہے۔
ایاز صدیق نے اعترافی بیان میں انکشاف کیا کہ: “چنارسنگھ میں ہونے والے اجلاس کے بعد کوٹلی میں دھرنا دینے اور سڑکیں بند کرنے کے لیے مختلف دفاعی کمیٹیاں اور ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔”
“اسے یہ تمام اسلحہ اور بارود فراہم کیا گیا تاکہ جب سیکیورٹی فورسز پیش قدمی کریں تو ان پر یہ بم اور گرینیڈ پھینکے جائیں اور فورسز کو آگے بڑھنے سے روکا جائے۔”
تمام ملزمان اور برآمد شدہ مواد اس وقت سیکورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں اور ریاست کے خلاف اس فتنے اور ان کے تمام سہولت کاروں کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دینے کا عمل جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ اطلاعات کی روشنی میں کالعدم تنظیم سے منسلک مسلح گروہ کی جانب سے 4 اکتوبر کو بلانی جنگل، حدود چوکی کالا ڈب، تحصیل چڑہوئی سےمیرپور کوٹلیشاہراہ کو بند کردیا گیا ۔
جس سے ٹریفک اور عام شہریوں کی آمدورفت متاثر ہوئی۔پولیس کے مطابق چوکی آفیسر کالا ڈب نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور شاہراہ عام سے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی۔
مسلح افراد کی جانب سے پولیس پر براہِ راست فائرنگ کی گئی جس کے باعث محمد نعیم، اے ایس آئی و چوکی آفیسر کالا ڈب اور عبدالرؤف کانسٹیبل شدید زخمی ہوگئے۔ دونوں زخمی اہلکار زیرِ علاج ہیں۔
پولیس کے مطابق اس واقعے کے بعد ضلع کے مختلف علاقوں میں تخریب کاری اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائی کیلئے 4 اور 5 اکتوبر کی درمیانی شب سرچ آپریشنز کئے گئے جن کے دوران مجموعی طور پر 13 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ سرچ آپریشنز کے تسلسل میں 5 اور 6 اکتوبر کی درمیانی شب رہیاں گلی، کوٹلی، ستہ پانی روڈ پر ایک مسلح گروہ کی موجودگی کی اطلاع ملی۔
پولیس کے مطابق یہ گروہ مبینہ طور پر اشتہاری ملزم ایاز احمد ولد محمد صدیق، قوم بٹ، ساکن ساردا کوٹلی کی سربراہی میں موجود تھا۔
پولیس کے مطابق ڈی ایس پی سٹی کوٹلی سبیل یوسف کی قیادت میں انتہائی رازداری اور حکمت عملی کے ساتھ آپریشن کیا گیا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران دو موٹر سائیکلوں اور ایک کار میں سوار مسلح افراد کے گروہ کو روکا گیا اور گاڑی کے ٹائر پر فائر کرکے اسے روکا گیا، جس کے بعد متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد میں ایاز احمد، آغاز بٹ پسران صدیق بٹ ساکنان ساردا، شاہزیب اشرف ولد اشرف ساکن ساردا، طاہر فاروق ولد داد خان قوم راجپوت ساکن موہڑہ نکیال، لیاقت حسین ولد فریاد قوم راجپوت ساکن کھوئیرٹہ، فہد علی ولد محمد امجد، محمد بلال ساکنان ڈڈیال ضلع میرپور، اور شاکر حسین ولد اعظم قوم کشمیری ساکن کھوئیرٹہ شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے چار کلاشنکوفیں، تین میگزین، 500 راؤنڈ ایس ایم جی، ایک عدد نوپہ، ایک 9 ایم ایم پستول بمعہ میگزین، 50 راؤنڈ، تین دستی بم، ایک ہینڈ گرینیڈ اور 130 راؤنڈ 3-G برآمد کیے گئے۔
کوٹلی پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح گروہ کے خلاف کارروائی انتہائی جانفشانی اور دلیری سے عمل میں لائی گئی، جس کے نتیجے میں کالعدم JAAC سے منسوب مبینہ منصوبہ بندی اور ممکنہ پرتشدد کارروائیوں کو ناکام بنایا گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے کالعدم JAAC کے آزاد کشمیر بھر میں آئندہ کے لائحہ عمل اور مبینہ مسلح کارروائیوں کے حوالے سے اہم معلومات بھی حاصل ہوئی ہیں، جن کی بنیاد پر مزید کارروائیاں اور تفتیش جاری ہے۔
کوٹلی پولیس نے کہا ہے کہ شہریوں کے تعاون سے پرتشدد کارروائیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی اور سماج دشمن عناصر کو شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کوٹلی کے شہریوں کو سماج دشمن عناصر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس ہمہ وقت مصروفِ عمل ہے۔
واضح رہے کہ گرفتار افراد کے خلاف مقدمات، قانونی کارروائی اور ان پر عائد الزامات کا حتمی تعین متعلقہ تفتیش اور عدالت میں ہونے والی کارروائی کے بعد ہوگا۔




