سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کے دوران چار ڈرافٹس پر تمام فریقین کے درمیان اتفاق ہو گیا تھا، تاہم خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے مرکز کے ساتھ انسداد دہشتگردی تعاون سے متعلق طے شدہ ڈرافٹ پر دستخط سے انکار کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے۔
مذاکرات میں رکاوٹ
پی ٹی آئی سے مذاکرات کے حوالے سے ایکس پر جاری بیان میں شیری رحمان نے کہا کہ ہم نے بارہا کہا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی کی سینئر وفاقی قیادت کو مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کا لانگ مارچ خیبرپختونخوا میں ہی ’’گول گول گھومتا‘‘ نظرآئیگا،اختیار ولی
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ یا کابینہ کا کوئی نمائندہ مذاکرات میں شریک نہیں ہوا۔ اگر صوبائی حکومت کے پاس کوئی قابل عمل ڈرافٹ تھا تو اسے خود مذاکرات میں آکر پیش کرنا چاہیے تھا۔
معاملات طے ہوگئے تھے
شیری رحمان کے مطابق رات تک تمام معاملات طے ہو چکے تھے، تاہم رات ساڑھے 8 بجے کے بعد پشاور حکومت نے نئی شرائط پیش کرنا شروع کردیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنے 25 سالہ پارلیمانی دور میں ایسا موقع ضائع ہوتے نہیں دیکھا۔ برسوں کی تلخ سیاسی تقسیم کے بعد ملک میں استحکام لانے کا ایک اہم موقع ضائع ہوگیا۔
اہم پیش رفت کا موقع
سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاقی حکام کے ساتھ بہتر ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرتی تو یہ ایک اہم آغاز ہوسکتا تھا۔ اسلام آباد میں موجود پی ٹی آئی کی سینئر قیادت سے رہنمائی لی جاتی تو بھی اہم پیش رفت ممکن تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوئی یکطرفہ معاملہ نہیں تھا اور تمام فریقین کی شمولیت ضروری تھی۔
حکومت کا شکریہ
شیری رحمان نے کہا کہ مذاکرات کے عمل کے دوران موقع دینے اور صبر سے کام لینے پر وزیراعظم شہباز شریف، ایاز صادق اور محسن نقوی کے مشکور ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں انتخابی عمل پر سینیٹر شیری رحمان کا سخت ردِعمل،دھاندلی کا الزام
ان کے مطابق مسلسل تبدیلیوں کے باوجود حکومتی ٹیموں نے مذاکرات پر توجہ برقرار رکھی۔
مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ہم نے مذاکرات ختم نہیں کئےبلکہ دروازے کھلے رکھے۔ ہم اس وقت تک انتظار کرتے رہے جب تک دوسری جانب سے مذاکرات میں واپس آنا بند نہیں کر دیا گیا۔




