حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کا اہم ترین دور آج متوقع ہے

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے مابین جاری مذاکرات کا اگلا اور فیصلہ کن دور آج ہوگا جس میں فریقین کے درمیان تمام اہم امور پر حتمی فیصلوں کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دونوں اطراف کے درمیان ہونے والی اس اہم بیٹھک پر سیاسی حلقوں کی گہری نظریں مرکوز ہیں۔

آج ہونے والے ان مذاکرات کا متوقع وقت دوپہر ڈھائی بجے بتایا گیا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ روز یعنی جمعے کے روز ہونے والی مذاکرات کی نشست میں فریقین کسی بھی قسم کے باضابطہ اتفاق رائے پر پہنچنے میں ناکام رہے تھے اور کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی تھی۔

گزشتہ روز ہونے والی بات چیت کے دوران دونوں فریقین کے اپنے اپنے مؤقف اور مطالبات سامنے آئے تھے۔ حکومت کی جانب سے یہ واضح مطالبہ کیا گیا ہے کہ احتجاجی لانگ مارچ کو فوری طور پر ختم کیا جائے جبکہ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کا مسلسل یہ اصرار اور مطالبہ ہے کہ ان کے رہنما عمران خان سے ملاقات کرائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: زرداری، شہبازشریف ملاقات، پی ٹی آئی سے مذاکرات ، مشترکہ کمیٹی تشکیل

موجودہ صورتحال کے تناظر میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے یہ بات بالکل واضح کر دی گئی ہے کہ ملک میں احتجاج اور انتشار پھیلانے کی روش سے کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ حکومتی حلقوں کا دوٹوک مؤقف ہے کہ اگر فریقین کو کسی بھی قسم کی کوئی رعایت چاہیے تو اس کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ناگزیر ہوگا۔

حکومت کی سخت وارننگ اور آئینی آپشنز:

حکومتی ذرائع کے مطابق اگر اپوزیشن کی جانب سے ہٹ دھرمی کا رویہ اسی طرح جاری رہا تو ریاست اپنے آئینی اختیارات کو استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایسی صورت میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت حاصل اختیارات کو عملی طور پر بروئے کار لایا جائے گا۔