اقوام متحدہ میں پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے، جس کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں بھارتی نمائندے کے بیان پر حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری سرفراز احمد نے کہا کہ جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:لانگ مارچ کی آڑ میں بنوں طرز کا حملہ؟خواجہ آصف نے تحریک انصاف کا خطرناک پلان بے نقاب کر دیا
سرفراز احمد نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی ضمانت سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں میں دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے ان قراردادوں پر عمل درآمد سے انکار بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔
پاکستانی نمائندے نے بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دینا اقوام متحدہ کے ریکارڈ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
سرفراز احمد نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروہوں کی معاونت اور مالی سرپرستی کر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کیلئے مسئلہ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پیٹرول ریلیف پر آئی ایم ایف کا بڑا فیصلہ ،حکومت کو واضح پیغام دیدیا
پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے، جبکہ بھارت جموں و کشمیر کو اپنا داخلی معاملہ قرار دیتا ہے اور اس پر بیرونی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔




