وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت نے لانگ مارچ کی آڑ میں بدامنی اور تشدد پھیلانے کا منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔
ان کے مطابق 4 اکتوبر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ میں شرپسند عناصر کو شامل کرنے اور بنوں طرز کے واقعات دہرانے کا پلان بنایا گیا ہے۔
بنوں واقعے کا حوالہ
خواجہ آصف نے جولائی 2024 کے بنوں واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی اور دیگر عناصر نے دہشت گردوں کی مذمت کرنے کے بجائے ملکی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
فوجی و پولیس تنصیبات کا خدشہ
وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ مظاہروں اور جلسوں کی آڑ میں فوجی یا پولیس تنصیبات پر حملوں کی تیاری کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے کسی بھی صورت انتشار پھیلانے یا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔
9 مئی جیسی کوشش پر کارروائی کا انتباہ
خواجہ آصف کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ 9 مئی جیسے کسی بھی اقدام سے بلاامتیاز نمٹا جائے گا۔
سیاسی جدوجہد اور مسلح بغاوت میں فرق
وزیر دفاع نے پی ٹی آئی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جدوجہد اور مسلح بغاوت میں واضح فرق ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سوچ سمجھ کر آنا، کچھ لے کر نہیں دے کر ہی جائو گے، خواجہ آصف کی پی ٹی آئی کو وارننگ
ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی لبادے میں کالعدم تنظیموں کی مدد سے مسلح بغاوت کی کوشش کی گئی تو اسے ملک کی سالمیت پر حملہ تصور کیا جائے گا اور ریاست تمام دستیاب وسائل استعمال کرے گی۔




