وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور صوبے میں سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت پر سوالات اٹھا دئیے۔
ایکسپریس نیوز کو دئیے گئے خصوصی انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ ایک جانب خیبر پختونخوا دہشت گردی کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی نے اپنی مہم کا نام ’’سومناتھ‘‘ رکھا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:صحت کے شعبے میں لوٹ مار کی مثال کہیں نہیں ملتی، پمز کا سانحہ کرپشن کا نتیجہ ہے: خواجہ آصف
وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد جانیں گنوا رہے ہیں، تاہم ان کے مطابق پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کی جانب سے شہداء کے جنازوں میں شرکت کے حوالے سے سوالات موجود ہیں۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کو بھی چیلنج کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں کسی ایسے شہید کے جنازے کی نشاندہی کی جائے جہاں پی ٹی آئی کے وزراء، وزیراعلیٰ، ارکان قومی اسمبلی یا ارکان صوبائی اسمبلی شریک ہوئے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کو مسلسل سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے حالات میں سیاسی قیادت کے کردار پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ شہداء کے خاندانوں اور دہشت گردی سے متاثرہ عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی محض بیانات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ سیاسی قیادت کو عملی طور پر بھی اپنی موجودگی کا اظہار کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر دفاع نے پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں اور خیبر پختونخوا میں جاری سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں پارٹی قیادت سے سوال کیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ ان کی سیاسی قیادت کی موجودگی کہاں نظر آتی ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور سکیورٹی کی صورتحال قومی سیاسی بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان دہشت گردی سے نمٹنے، امن و امان اور صوبائی حکومت کے کردار کے حوالے سے اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے بیٹوں کے نائیکوپ مؤثر ہیں، پاکستان آنے میں کوئی رکاوٹ نہیں، خواجہ آصف
خواجہ آصف کے بیان پر پی ٹی آئی کی جانب سے ردعمل کی صورت میں پارٹی مؤقف سامنے آنے کے بعد معاملے کے دونوں پہلو مزید واضح ہو سکتے ہیں۔




