ہٹیاں بالا (کشمیر ڈیجیٹل/عمر بھٹی راجپوت ) آزادکشمیر کے ضلع جہلم ویلی ہٹیاں بالا کے نواحی گاؤں نوگراں سے 1960 میں صرف 11 سال کی عمر میں بچھڑنے والا سندیس 66 سال بعد 77 سال کی عمر میں عبدالعزیز کے نام سے اپنے آبائی گاؤں واپس پہنچ گیا۔
طویل عرصے بعد اپنے بچھڑے ہوئے رشتہ دار کی واپسی نے پورے گاؤں کو خوشی اور جذبات سے بھر دیا۔ سندیس 1960 میں کم عمری کے دوران گھر سے نکلنے کے بعد خاندان سے بچھڑ گیا تھا۔
جس کے بعد اہل خانہ کو طویل عرصے تک اس کے بارے میں کوئی خبر نہ مل سکی۔ وقت گزرتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے 66 سال بیت گئے۔
اس دوران سندیس کے والدین اور بہن بھائی بھی دنیا سے رخصت ہو گئے، تاہم خاندان کے دلوں میں اپنے بچھڑے ہوئے پیارے کی یاد موجود رہی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کابل میں پاکستان مخالف ریلی کا بھانڈا پھوٹ گیا، افغان شہری نے حقیقت کھول دی
اب 77 سال کی عمر میں سندیس، جو عبدالعزیز کے نام سے رحیم یار خان میں مقیم رہے، اپنے آبائی گاؤں نوگراں پہنچے تو رشتہ داروں اور اہلِ علاقہ نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔
ان کے بھتیجوں ٹھیکیدار ماجد اعوان، سجاد اعوان، متین اعوان، فروید اعوان، زہیب اعوان اور شعیب اعوان سمیت دیگر رشتہ دار بڑی تعداد میں ان سے ملاقات کے لیے پہنچے۔
چھ دہائیوں سے زائد عرصے بعد عبدالعزیز کو اپنے درمیان دیکھ کر گاؤں کے بزرگ بھی جذباتی ہو گئے اور بچپن کی یادیں تازہ ہو گئیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں ترقی کا دور دورہ ہوگا، دھرنوں اور احتجاج سے مسائل حل نہیں ہوتے، وفاقی وزیر امیر مقام
عبدالعزیز نے بھی اپنے آبائی گاؤں واپس پہنچنے پر خوشی کا اظہار کیا اور رشتہ داروں و اہلِ علاقہ سے ملاقاتیں کیں۔
سندیس کے والدین اور بہن بھائی اگرچہ آج اس دنیا میں موجود نہیں، تاہم خاندان کی نئی نسل نے 66 سال بعد اپنے اس بچھڑے ہوئے بزرگ کا استقبال کیا۔
ان کی واپسی نے نہ صرف نوگراں میں خوشی کی فضا پیدا کر دی بلکہ کئی دہائیوں پرانی یادوں کو بھی تازہ کر دیا۔




