پاکستان کی افغانستان میں بڑی کارروائی، ٹی ٹی پی کمانڈر عبدالولی داور کی ہلاکت کی اطلاعات

پاکستان نے افغانستان کے اندر ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے دہشتگرد تنظیموں سے منسلک متعدد اہم مراکز کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ تحریک طالبان پاکستان کے سینیئر کمانڈر عبدالولی داور کی ہلاکت کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

پاکستانی کارروائی میں پہلی مرتبہ ایسے مراکز کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں جو بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ کے ساتھ ساتھ افغان طالبان (ٹی ٹی اے) کے عسکری مراکز کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ رپورٹس کے مطابق ان مراکز میں ڈرونز کی بڑی کھیپ بھی موجود تھی۔ اس کارروائی کے دوران قندھار میں افغان طالبان کے نام نہاد روحانی مرکز، ملا عمر کمپلیکس ’’ملا سرائے‘‘ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جسے ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے گارڈز کا مرکز بھی بتایا جاتا ہے۔

پاکستانی کارروائیوں کے حوالے سے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ دہشتگردوں کے ساتھ ساتھ انہیں پناہ دینے، تربیت فراہم کرنے اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے لانچ کرنے والے مراکز بھی ہرگز محفوظ نہیں رہیں گے۔ پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان کے اندر دس دہشتگرد ٹھکانوں کو فضائی کارروائیوں میں نشانہ بنایا گیا۔ خوست کے گلان کیمپ، اسماعیل خیل اور منڈوزئی میں ڈرون لانچنگ کی تنصیبات کو تباہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ خوست کے صحرا باغ کمپاؤنڈ میں موجود اہم دہشتگرد انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں دہشتگردی میں بے پناہ اضافہ،افغان طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی کی کھلی حمایت کر دی،اقوام متحدہ کی تشویشناک رپورٹ سامنے آ گئی

قندھار میں نشانہ بننے والا ملا عمر کمپلیکس ’’ملا سرائے‘‘ اطلاعات کے مطابق اس وقت افغان طالبان حکومت کے قندھار گورنر کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔ اس کے علاوہ پکتیکا میں افغان طالبان حکومت سے منسلک کئی دیگر مبینہ دہشتگرد ٹھکانوں کو بھی ہدف بنایا گیا۔ دوسری جانب افغان حکام کے حوالے سے اے ایف پی نے رپورٹ کیا ہے کہ پکتیا میں پاکستانی طیاروں نے افغان فوج کے دو سو تیسویں منصوری کور کے ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ خوست میں بھی فضائی حملے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

پاکستان کی جانب سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار حملوں اور دہشتگردی کے الزامات کے باعث کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستان کا اصولی مؤقف یہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگرد کارروائیوں کے سدباب کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، جبکہ دوسری طرف افغان حکام پاکستان کی ان کارروائیوں کو افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے رہے ہیں۔