جنرل اینستھیزیا یعنی مکمل بے ہوشی کی دوا نے جدید طب میں سرجری کو انتہائی آسان بنا دیا ہے لیکن سائنس دان آج بھی پوری طرح نہیں جان سکے کہ یہ ادویات آخر دماغ کو اس طرح کیسے خاموش کردیتی ہیں کہ انسان کو اپنے اردگرد ہونے والی کسی چیز کا شعور نہیں رہتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی پراسرار کیفیت اب سائنس دانوں کو انسانی دماغ اور شعور کی بنیادی نوعیت سمجھنے میں مدد دے رہی ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق بے ہوشی کی دوا سے پیدا ہونے والی حالت شاید ہمیں اس سوال کے جواب کے قریب لے جاسکتی ہے کہ انسانی شعور آخر پیدا کہاں سے ہوتا ہے؟
یہ بھی پڑھیں:روزمرہ کی ایسی 8عادتیں کونسی ہیں جو گھٹنوں کو خراب کرنے کا سبب بن رہی ہیں؟
سن1797 میں برطانوی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل ہوراٹیو نیلسن کا دایاں بازو کاٹنا پڑا۔ یہ آپریشن ان کی جان بچانے کے لیے کیا گیا تھا تاہم روایت کے مطابق اس وقت انہیں بے ہوش کرنے کے لیے کسی باقاعدہ دوا کے بجائے صرف رم کا ایک گھونٹ دیا گیا تھا۔
انسانی تاریخ کے بیشتر حصے میں جسم کے کسی عضو کو کاٹنے جیسے انتہائی تکلیف دہ آپریشن بھی مریض کو مکمل ہوش میں ہی کیے جاتے تھے۔
پھر سن 1846 میں جنرل اینستھیزیا کا استعمال شروع ہوا اور طب کی دنیا بدل گئی۔ اب انسان کے شعور کو عارضی طور پر کسی بھی وقت اور کسی بھی شخص میں ختم کیا جاسکتا تھا۔
نیلسن کی طرح کسی مریض کو عضو کٹوانے کے باوجود اگلے روز ناشتے کی میز پر بیٹھنے کے لیے درد برداشت کرنے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔
آج دنیا بھر میں ہر سال 35 کروڑ سے زیادہ سرجریاں جنرل اینستھیزیا کے تحت کی جاتی ہیں۔ تاہم اتنے بڑے پیمانے پر استعمال کے باوجود سائنس دان اب بھی پوری طرح نہیں جانتے کہ یہ ادویات ہمیں بے شعور کیسے کرتی ہیں۔
اینستھیزیا کی کئی اقسام ہیں۔ کچھ ادویات براہ راست درد کو روکنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں کچھ انسان کو غنودگی اور سکون کی کیفیت میں لے جاتی ہیں جبکہ جنرل اینستھیزیا اس سے ایک قدم آگے جاکر انسان کو مکمل طور پر بے شعور کردیتا ہے۔
ایسی متعدد ادویات موجود ہیں جو بے ہوشی کی کیفیت پیدا کرسکتی ہیں۔ ان میں زینون جیسی نسبتاً غیر فعال گیس بھی شامل ہے اگرچہ اس کا طبی استعمال بہت محدود ہے جبکہ پروپوفول دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی جنرل اینستھیزیا کی ادویات میں شامل ہے۔
ان ادویات کی کیمیائی ساخت ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوسکتی ہے لیکن ان میں ایک بات مشترک دکھائی دیتی ہے کہ یہ دماغ کے اعصابی خلیوں کے درمیان رابطے میں مداخلت کرتی ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے مؤثر انداز میں رابطہ کرنے سے روکتی ہیں۔
مقناطیسی گونج کیمرا یعنی ایم آر آئی سے کیے گئے مشاہدات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنرل اینستھیزیا کے دوران دماغ کی مجموعی سرگرمی میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں عطیہ ہونے والے ایک دل سے 2 بچوں کا کامیاب علاج
لیکن اصل سوال اب بھی باقی ہے کہ دماغ کی سرگرمی میں یہ کمی انسان کو بے شعور کیسے کردیتی ہے؟
سائنس دان ابھی تک اس بات پر متفق نہیں کہ اینستھیزیا سے پیدا ہونے والی بے ہوشی کے لیے پورے دماغ کا بند ہونا ضروری ہے یا دماغ کے کچھ مخصوص حصے اس عمل میں زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
برطانیہ کی امپیریل کالج لندن سے وابستہ حیاتیاتی طبیعیات اور اینستھیزیا کے ماہر پروفیسر نک فرینکس کے مطابق اگر پورا دماغ بھی بند ہوجائے تو دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان انتہائی پیچیدہ رابطوں کی وجہ سے یہ جاننا مشکل ہے کہ اس پورے عمل کا آغاز کہاں سے ہوا۔
ان کے مطابق دماغ کے بعض حصے دوسروں کے مقابلے میں پہلے اینستھیزیا سے متاثر ہوتے دکھائی دیتے ہیں جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں یہی حصے دماغ کی مجموعی سرگرمی میں کمی کا عمل تو شروع نہیں کرتے۔
مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ جنرل اینستھیزیا دینے کے بعد تھیلمس ان حصوں میں شامل ہوتا ہے جو نسبتاً پہلے خاموش پڑتے ہیں۔ یہ حصہ نیند شروع کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے عمل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی اسپتالوں کے ماہرِ بے ہوشی ڈاکٹر جے دیپ پنڈت کا خیال ہے کہ ایسے افراد شاید شعور کی ایک ایسی تیسری حالت میں ہوتے ہیں جو نیند اور بیداری یا شعور اور بے شعوری کے درمیان کہیں موجود ہے۔
ایک تجربے میں پنڈت نے مریضوں کو بے ہوشی کی دوا کے ساتھ پٹھوں کو مفلوج کرنے والی دوا بھی دی تاہم بازو کے گرد ایک مخصوص پٹی باندھ کر اس دوا کو بازو کے پٹھوں تک پہنچنے سے روک دیا گیا۔
اس طرح اگرچہ مریض بظاہر بے ہوش تھے لیکن اگر وہ چاہیں تو اپنا ہاتھ حرکت دے سکتے تھے۔
تجربے میں تقریباً ایک تہائی مریضوں نے تجربہ کرنے والے شخص کی انگلیاں ہدایت ملنے پر دبائیں، حالانکہ آپریشن کے دوران ان میں بیداری یا درد کی کوئی ظاہری علامت موجود نہیں تھی۔
پنڈت کے مطابق یہ نتائج اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شعور صرف دو حالتوں، یعنی بیداری اور بے ہوشی، تک محدود نہیں بلکہ اس کی ایک درمیانی کیفیت بھی ہوسکتی ہے۔
شعور کا نام نہاد مشکل مسئلہ سائنس کے ان بڑے معموں میں شامل ہے جنہیں اب تک مکمل طور پر حل نہیں کیا جاسکا۔
اگرچہ عام نیند میں بھی شعور ختم ہوجاتا ہے، لیکن جنرل اینستھیزیا سائنس دانوں کو شعور کو تقریباً کسی بھی وقت عارضی طور پر ختم کرکے اس دوران دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
انسانی شعور کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ہر شخص کا تجربہ اپنے لیے منفرد محسوس ہوتا ہے۔ ہر انسان دنیا کو اپنے انداز میں محسوس اور سمجھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لسی سے تیار کُڑان، وٹامنز ، پروٹین سے بھرپورخوراک ،شوگر کے مریضوں کیلئے شفاء
کیمبرج یونیورسٹی کے ماہر اعصاب اینڈریا لوپی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ جنرل اینستھیزیا اس انفرادیت کے بارے میں ہمیں کیا بتا سکتا ہے۔
انہوں نے جنرل اینستھیزیا کے زیر اثر افراد کے دماغوں کا فعال ایم آر آئی کے ذریعے جائزہ لیا۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دماغ میں خون کے بہاؤ کو دیکھ کر یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ دوا دماغ کی سرگرمی پر کیا اثر ڈال رہی ہے۔




