روزمرہ کی ایسی 8عادتیں کونسی ہیں جو گھٹنوں کو خراب کرنے کا سبب بن رہی ہیں؟

ہماری روزمرہ کی زندگی میں کچھ ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں اور عادات شامل ہوتی ہیں جو بظاہر نقصان دہ محسوس نہیں ہوتیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے گھٹنوں کو اندر ہی اندر کمزور کر دیتی ہیں۔

گھٹنوں پر روزانہ جسم کا زیادہ تر وزن ہوتا ہے اور یہی جوڑ ہمیں چلنے، سیڑھیاں چڑھنے، بیٹھنے اور دوبارہ کھڑے ہونے میں مدد دیتے ہیں۔

عام طور پر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ گھٹنوں کا درد یا تکلیف صرف بڑھتی ہوئی عمر یا کسی چوٹ کی وجہ سے ہوتی ہے، لیکن آرتھوپیڈکس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے بیٹھنے، چلنے اور ورزش کرنے کے غلط طریقے بھی گھٹنوں کے جوڑوں پر ناقابلِ تلافی دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔

زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا

دن کا زیادہ حصہ مسلسل بیٹھ کر گزارنے سے رانوں اور کولہوں کے وہ پٹھے کمزور ہوسکتے ہیں جو گھٹنوں کو سہارا دیتے ہیں۔ خاص طور پر زیادہ دیر تک گھٹنے موڑ کر بیٹھنے سے اٹھتے وقت اکڑن محسوس ہوسکتی ہے۔

اس لیے کوشش کریں کہ کئی گھنٹے مسلسل بیٹھنے کے بجائے ہر چالیس منٹ بعد اٹھ کر تھوڑی چہل قدمی کر لی جائے یا ٹانگوں کو ہلکا پھلکا حرکت دی جائے۔

بہت زیادہ سیڑھیاں چڑھنا

سیڑھیاں چڑھنا جسمانی سرگرمی کا ایک اچھا ذریعہ ہے، لیکن بغیر مناسب طاقت یا تیاری کے بار بار کئی منزلیں چڑھنے سے گھٹنوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ جن افراد کو پہلے ہی گھٹنوں میں درد یا ٹانگوں کے پٹھوں میں کمزوری ہو، انہیں خاص طور پر احتیاط کرنی چاہیے۔

سیڑھیاں چڑھتے یا اترتے وقت جلد بازی کے بجائے جسم کی پوزیشن درست رکھنے اور اپنی طاقت بتدریج بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔

ورزش سے پہلے وارم اپ نہ کرنا

ورزش سے پہلے جسم کو گرمانا یا وارم اپ نہ کرنا بھی ایک عام سائنسی غفلت ہے۔ اچانک تیز ورزش شروع کرنا، خاص طور پر دوڑنے، چھلانگ لگانے یا اسکواٹس جیسی ورزشوں میں، پٹھوں اور جوڑوں پر غیر ضروری دباؤ ڈال سکتا ہے۔

ورزش سے پہلے چند منٹ ہلکی حرکات کرنے سے جسم کو سخت ورزش کے لیے تیار ہونے میں مدد ملتی ہے۔ ورزش کی شدت بھی اچانک بڑھانے کے بجائے آہستہ آہستہ بڑھانا بہتر ہے۔

ورزش کے دوران گھٹنے کے درد کو نظر انداز کرنا

ورزش کے بعد پٹھوں کی ہلکی تھکن الگ بات ہے، لیکن گھٹنے کے اندرونی حصے میں مسلسل یا تیز درد اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ جوائنٹ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ایسی صورت میں ورزش کی شدت کم کرنا یا سرگرمی میں تبدیلی کرنا مناسب ہے، جبکہ مسلسل درد کی صورت میں طبی مشورہ لینا چاہیے۔

غیر موزوں جوتے پہننا

چلتے وقت پاؤں اور گھٹنے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے انداز میں کام کرتے ہیں۔ ایسے جوتے جو پاؤں کو مناسب سہارا نہ دیں یا درست سائز کے نہ ہوں، چلنے کے انداز کو متاثر کرسکتے ہیں اور ٹانگ کی حرکت پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔

لمبے وقت تک چلنے یا ورزش کرنے کے لیے آرام دہ اور سرگرمی کے مطابق مناسب جوتے پہننے کی کوشش کریں۔

بالکل ورزش نہ کرنا

جس طرح ضرورت سے زیادہ ورزش نقصان دہ ہوسکتی ہے، اسی طرح مکمل طور پر جسمانی سرگرمی سے دور رہنا بھی گھٹنوں کے لیے اچھا نہیں۔ کولہوں اور رانوں کے مضبوط پٹھے گھٹنوں کو سہارا دینے میں مدد کرتے ہیں۔

پیدل چلنا، سائیکل چلانا یا تیراکی جیسی کم دباؤ والی سرگرمیاں جسم کی حرکت اور پٹھوں کی طاقت برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ اگر پہلے سے گھٹنوں کا مسئلہ موجود ہو تو ورزش کی نوعیت اور شدت کے بارے میں ماہر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

جسمانی وزن زیادہ ہونا

جسم کا بڑھ ہوا وزن بھی گھٹنوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ ایک کلوگرام جسمانی وزن بڑھنے سے گھٹنوں پر چلتے وقت چار کلوگرام کے برابر اضافی بوجھ پڑتا ہے، جو طویل مدت میں جوڑوں کے گھسنے یعنی اوسٹیو آرتھرائٹس کا سبب بنتا ہے۔ وزن کو متوازن خوراک کے ذریعے قابو میں رکھنا جوڑوں کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

اسکواٹس اور وزن اٹھانے میں غلط طریقہ اپنانا

اسکواٹس، لانجز یا وزن اٹھانے والی ورزشوں کے دوران غلط طریقہ اختیار کرنے سے گھٹنوں پر غیر ضروری دباؤ پڑ سکتا ہے، خاص طور پر جب وزن زیادہ ہو یا ورزش بار بار کی جائے۔ اس لیے حرکت کو قابو میں رکھتے ہوئے ورزش کی درست تکنیک سیکھنا ضروری ہے۔ جو لوگ پہلی بار وزن اٹھانے کی ورزش شروع کر رہے ہوں، وہ ٹرینر یا فزیوتھراپسٹ سے مناسب طریقہ سیکھ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق روزمرہ کی یہ عادات ہر شخص میں گھٹنوں کو لازماً نقصان پہنچائیں، ایسا نہیں ہے۔ تاہم مسلسل غیر فعال رہنا، گھٹنوں پر بار بار اضافی بوجھ ڈالنا یا ورزش کے دوران غلط طریقہ اپنانا وقت کے ساتھ اکڑن، پٹھوں کی کمزوری اور جوڑوں کی تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔

معمولی تبدیلیاں اپنا کر گھٹنوں کی حرکت اور مجموعی جوڑوں کی صحت کو بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔