پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کی طرف سے سینٹرل باغ کے حلقے میں انتخابات کے دوران جماعتی ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی کرنے والے اہم رہنماؤں کے خلاف باضابطہ تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پارٹی کی جانب سےجاری ہونے والے ان نوٹسز کے تحت پارٹی کے تین نمایاں رہنماؤں کو شو کاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے سیکرٹری جنرل چوہدری طارق فاروق کی جانب سے جن رہنماؤں کو تحریری وضاحت کے لیے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، ان میں درج ذیل نام شامل ہیں:
راجہ خورشید عالم: مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے سینئر آرگنائزر اور ضلع باغ کے سابق جنرل سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ ضلعی تنظیم اور جماعتی ٹکٹ ہولڈر کی تحریری رپورٹ کے مطابق ان پر حالیہ انتخاب میں جماعتی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مخالف سیاسی جماعت کی حمایت کرنے کا الزام ہے، جس کا آڈیو اور ویڈیو ریکارڈ بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر شاہ غلام قادر کی گفتگو، پارٹی امور پر اہم خیالات کا اظہار
راجہ محمد ریاض خان: مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے سینئر نائب صدر ہیں۔ ان کے بارے میں بھی ضلعی تنظیم کی رپورٹ کی روشنی میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے حالیہ انتخابات میں جماعتی ڈسپلن کے خلاف ورزی کرتے ہوئے مخالف سیاسی جماعت کو سپورٹ کیا، جس کے شواہد (آڈیو/ویڈیو) ریکارڈ پر موجود ہیں۔
راجہ شیر ایاز ایڈوکیٹ: گزشتہ دورِ حکومت میں کوآرڈینیٹر کے طور پر خدمات سر انجام دی ہیں اور حالیہ الیکشن میں جماعتی ٹکٹ کے حصول کے لیے درخواست گزار تھے۔ پارٹی ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 2023 کے ضمنی الیکشن اور حالیہ الیکشن میں جماعتی پالیسی کے برعکس جماعت اسلامی کو سپورٹ کیا، جس کے خلاف بھی آڈیو اور ویڈیو شواہد موجود ہیں۔
تحریری وضاحت کی طلب اور ممکنہ کارروائی:
پارٹی قیادت کی جانب سے جاری کردہ ان مراسلات میں تمام متعلقہ رہنماؤں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 7 دن کے اندر اپنے اس عمل کی تحریری وضاحت پیش کریں۔
نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ وہ تحریری طور پراپنی وضاحت پیش کریں۔ ان نوٹسز کی نقل صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر شاہ غلام قادر اور سینئر نائب صدر راجہ مشتاق احمد منہاس کو بھی ارسال کر دی گئی ہے۔




