میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کے لیے قومی سطح پر ایم ڈی کیٹ (MDCAT) امتحان کل صبح 10 بجے منعقد ہوگا، جس میں ملک بھر سے مجموعی طور پر ایک لاکھ 38 ہزار 160 امیدوار شرکت کریں گے۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے مطابق امتحان کے لیے ملک بھر میں 34 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ بیرونِ ملک سعودی عرب کے شہر ریاض میں بھی ایک امتحانی مرکز بنایا گیا ہے۔
پیپر کا ڈھانچہ اور سیکیورٹی اقدامات:
پی ایم ڈی سی کے مطابق ایم ڈی کیٹ کا پیپر 180 سوالات پر مشتمل ہوگا، جس میں بائیولوجی، کیمسٹری، فزکس، انگریزی اور آئی کیو (IQ) کے سوالات شامل ہوں گے۔ یہ تمام سوالات ملک بھر سے منتخب کردہ ماہرین نے تیار کیے ہیں۔ امتحان کی سیکیورٹی اور پیپر لیک ہونے کے خدشات سے نمٹنے کے لیے ہر صوبے کو دو الگ الگ پرچے فراہم کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پورے ملک کا امتحان منسوخ ہونے کے خطرے سے بچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ایم ڈی کیٹ 2026 ملتوی، امتحان کی نئی تاریخ کا اعلان
امیدواروں کے لیے ہدایات اور پاسنگ مارکس:
امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صبح 7 بجے تک اپنے متعلقہ امتحانی مراکز میں پہنچ جائیں۔ تین گھنٹے پر مشتمل یہ ایم سی کیوز ٹیسٹ 180 نمبروں کا ہوگا، جس میں میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے پاسنگ مارکس 55 فیصد جبکہ ڈینٹل کالجز کے لیے 50 فیصد مقرر کیے گئے ہیں۔ پی ایم ڈی سی نے واضح کیا ہے کہ اس امتحان میں کوئی منفی مارکنگ (Negative Marking) نہیں ہوگی۔ امتحان کے فوری بعد ’آنسر کی‘ اپ لوڈ کر دی جائے گی، جبکہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے طلبہ کاربن کاپی کے ساتھ ٹیسٹ پیپر حل کر سکیں گے اور تمام امیدواروں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ امتحان کے اختتام تک اپنی نشستوں پر ہی بیٹھے رہیں۔
ایم ڈی کیٹ کے انعقاد کے لیے مختلف جامعات کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں:
- پنجاب: یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور
- سندھ: سکھر آئی بی اے
- خیبرپختونخوا: خیبر میڈیکل یونیورسٹی
- بلوچستان: بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کوئٹہ
- اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان: شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد
علاوہ ازیں، بلوچستان ڈومیسائل رکھنے والے امیدوار اضافی امتحانی مرکز سے مستفید ہوں گے۔ آزاد کشمیر کے طلبہ کے لیے ایک الگ پورٹل قائم کیا گیا ہے اور انٹرنیٹ کے مسائل کے پیشِ نظر انہیں ایم ڈی کیٹ کی ہارڈ کاپی فراہم کی جائے گی، جبکہ ان کے لیے اسلام آباد میں بھی ایک خصوصی امتحانی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ پی ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ امتحانات کے انعقاد کی براہ راست ذمے داری صوبوں اور متعلقہ میڈیکل یونیورسٹیوں کی ہے، جبکہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق وزارتِ صحت اور پی ایم ڈی سی اس پورے عمل کی مکمل نگرانی کریں گے۔




