امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کو ’بھتا ٹیکس‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے اور ملک میں مہنگائی کے موجودہ حالات میں حکومت عوام سے مزید ٹیکس وصول کرنے کے بجائے اپنے اخراجات اور عیاشیاں کم کرےـ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کا احتجاجی مارچ کل کراچی سے شروع ہوگا، جس میں بڑی تعداد میں عوام کی شرکت متوقع ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کا کوئی جواز نہیں بنتا، کیونکہ عوام پہلے ہی مہنگائی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں اور ان کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت لیوی کے ذریعے اپنی نااہلی اور کرپشن پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ اس کے لیے بار بار عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا نام لیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف پورے نہیں کیے جا رہے اور وفاقی ادارہ محصولات (FBR) کی کارکردگی بہتر ہونے کے بجائے مسائل کا شکار ہے، جبکہ حکومت خود اپنے اخراجات کم کرنے پر بالکل آمادہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا، حافظ نعیم الرحمان
حکومتی مراعات اور بڑھتے ہوئے اخراجات پر سوالات:
امیر جماعت اسلامی نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی عہدیدار بڑی گاڑیوں، سرکاری طیاروں، مفت پیٹرول اور دیگر شاہانہ مراعات سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود غریب عوام سے مسلسل قربانیاں مانگی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب یہ ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ حکومت اپنے اخراجات میں 25 سے 30 فیصد تک اضافہ کر رہی ہے اور دوسری جانب عوام سے مزید قربانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
پیٹرول کی قیمت کا طریقہ کار اور دیگر بے ضابطگیاں:
حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرول کی قیمت کے تعین کے طریقہ کار پر بھی شدید سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں مختلف مدات کے تحت بھاری رقم شامل کی جاتی ہے، جن میں کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر محصولات بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق ڈیلر کے چارجز، ٹرانسپورٹیشن اخراجات، ریفائنری اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجنز بھی قیمت کا حصہ بنتے ہیں، اور ان مارجنز میں بھی بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معاملہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ درآمد شدہ اور مقامی تیل کے لیے ایک ہی قیمت وصول کی جا رہی تھی، حالانکہ دونوں کی لاگت میں واضح فرق موجود ہوتا ہے۔




